Skip to content
♪
Duration3:18

فنا کا نور

استاد رفیع الدین نوری

قوالی

About

یہ قوالی ایک جذباتی روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیئم کا گہرا ڈرون، طبلے کی پیچیدہ تال، اور پرجوش کال اینڈ ریسپانس ووکلز شامل ہیں۔ ہاتھ کی تالیوں کی تھاپ کے ساتھ یہ فن پارہ صوفیانہ وجد اور الہی محبت کی شدت کو اجاگر کرتا ہے۔

Lyrics

intro

مے کدہ ہے نہ کوئی جام و سبو ہے سامنےبس تری یاد کا اک سلسلہ ہے سامنےمیں ہوں اور میری تڑپتی ہوئی روح کی پکارتیرا ہی نورِ تجلی بس رہا ہے سامنے

verse

کہاں ڈھونڈوں تجھے اے میرے دل کے مکیںتیرے بن یہ جہاں سارا ہے اک ویران زمیںمیں نے اپنی انا کو مٹا کر دیکھا ہےتیرے سوا یہاں کوئی بھی تو نہیںمیری آنکھوں میں تیرا ہی عکس ہےمیری سانسوں میں تیرا ہی رقص ہے

chorus

مجھ کو خود سے جدا کر دے اے میرے محبوبمیں مٹ جاؤں تو تو ہی نظر آئے ہر سومیری ہستی کو فنا کر دے، تو ہی باقی رہےتیری الفت کا سمندر، تیری چاہت کا جادومجھ کو خود سے جدا کر دے اے میرے محبوب

improvisation

ہو... ہو... ہو...تیری جستجو میں کھو گیا میںاپنے آپ سے بیگانہ ہو گیا میںکہاں جاؤں، کس کو پکاروں؟تیرے در کا فقیر ہو گیا میں

crescendo

میں ذرہ ہوں، تو ہے سورج کی کرنمیں قطرہ ہوں، تو ہے سمندر کا چلنمیری روح کی پیاس، میرے دل کی تڑپتجھ سے ہی روشن ہے یہ سارا بدنتیرے عشق میں جلنا، تیرے عشق میں ڈھلنابس یہی ہے میری زندگی کا مشن

chorus

مجھ کو خود سے جدا کر دے اے میرے محبوبمیں مٹ جاؤں تو تو ہی نظر آئے ہر سومیری ہستی کو فنا کر دے، تو ہی باقی رہےتیری الفت کا سمندر، تیری چاہت کا جادومجھ کو خود سے جدا کر دے اے میرے محبوب

outro

اب تو بس تو ہی تو ہے، میں تو باقی نہیںتیرے سوا کوئی اور، میرا ساتھی نہیںسجدہِ جاناں قبول کر لے اے میرے ربیہ روح اب تیرے سوا، کہیں راضی نہیںبس تو ہی تو...بس تو ہی تو...بس تو ہی تو...

فنا کا نور

استاد رفیع الدین نوری

Preview