فنا کا نور
استاد رفیع الدین نوری
قوالی
About
یہ قوالی ایک جذباتی روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیئم کا گہرا ڈرون، طبلے کی پیچیدہ تال، اور پرجوش کال اینڈ ریسپانس ووکلز شامل ہیں۔ ہاتھ کی تالیوں کی تھاپ کے ساتھ یہ فن پارہ صوفیانہ وجد اور الہی محبت کی شدت کو اجاگر کرتا ہے۔
Lyrics
مے کدہ ہے نہ کوئی جام و سبو ہے سامنےبس تری یاد کا اک سلسلہ ہے سامنےمیں ہوں اور میری تڑپتی ہوئی روح کی پکارتیرا ہی نورِ تجلی بس رہا ہے سامنے
کہاں ڈھونڈوں تجھے اے میرے دل کے مکیںتیرے بن یہ جہاں سارا ہے اک ویران زمیںمیں نے اپنی انا کو مٹا کر دیکھا ہےتیرے سوا یہاں کوئی بھی تو نہیںمیری آنکھوں میں تیرا ہی عکس ہےمیری سانسوں میں تیرا ہی رقص ہے
مجھ کو خود سے جدا کر دے اے میرے محبوبمیں مٹ جاؤں تو تو ہی نظر آئے ہر سومیری ہستی کو فنا کر دے، تو ہی باقی رہےتیری الفت کا سمندر، تیری چاہت کا جادومجھ کو خود سے جدا کر دے اے میرے محبوب
ہو... ہو... ہو...تیری جستجو میں کھو گیا میںاپنے آپ سے بیگانہ ہو گیا میںکہاں جاؤں، کس کو پکاروں؟تیرے در کا فقیر ہو گیا میں
میں ذرہ ہوں، تو ہے سورج کی کرنمیں قطرہ ہوں، تو ہے سمندر کا چلنمیری روح کی پیاس، میرے دل کی تڑپتجھ سے ہی روشن ہے یہ سارا بدنتیرے عشق میں جلنا، تیرے عشق میں ڈھلنابس یہی ہے میری زندگی کا مشن
مجھ کو خود سے جدا کر دے اے میرے محبوبمیں مٹ جاؤں تو تو ہی نظر آئے ہر سومیری ہستی کو فنا کر دے، تو ہی باقی رہےتیری الفت کا سمندر، تیری چاہت کا جادومجھ کو خود سے جدا کر دے اے میرے محبوب
اب تو بس تو ہی تو ہے، میں تو باقی نہیںتیرے سوا کوئی اور، میرا ساتھی نہیںسجدہِ جاناں قبول کر لے اے میرے ربیہ روح اب تیرے سوا، کہیں راضی نہیںبس تو ہی تو...بس تو ہی تو...بس تو ہی تو...
فنا کا نور
استاد رفیع الدین نوری
Preview