Skip to content
♪
Duration4:21

ذات کا سمندر

سحرِ وجد

صوفی راک

About

ایک طاقتور صوفی راک ٹریک جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کی دھنوں کو جدید ڈسٹارٹڈ الیکٹرک گٹار کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اس گانے میں جذباتی اور بلند آواز میں گائیکی کا استعمال کیا گیا ہے جو روحانی شدت اور ایک پرجوش صوفیانہ کیفیت پیدا کرتی ہے۔

Lyrics

intro

میں کون ہوں، کیا ہوں، کہاں سے آیا ہوںاک بوند ہوں میں، جو سمندر میں سمایا ہوں

verse 1

میرے اندر کی پیاس، صحرا بنی پھرتی ہےتیری یاد کی خوشبو، رگوں میں اترتی ہےمیں ڈھونڈتا رہا خود کو، تیرے ہی سائے میںاک شور ہے باطن میں، جو خاموشی میں پلتا ہے

pre-chorus

تارِ جاں ٹوٹے تو، تبھی تو وصل ہوتا ہےخود سے جو واقف ہوا، وہی تو اصل ہوتا ہے

chorus

تو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخر، تو ہی ظاہر ہےتیرے عشق میں ڈوبنا ہی، میرا مقدر ہےمیں مٹ رہا ہوں، کہ تجھ میں بکھر جاؤںتیری ذات کا حصہ، میں اب بن کے ابھر جاؤں

verse 2

نہ کوئی کعبہ، نہ کوئی بت خانہ باقی ہےتیرے جلووں کے سوا، کچھ نہ رہا ہے باقیمیری ہستی کا تماشا، اب ختم ہونے کو ہےیہ روح میری، تیرے در پہ سجدہ کرنے کو ہے

instrumental-solo
bridge

میں فنا ہوا تو، بقا کا راستہ ملااندھیروں میں مجھے، تیری روشنی کا دیا ملاسارے پردے اٹھ گئے، سب حجاب مٹ گئےجب سے ہم، ہم سے جدا ہو کر، تجھ سے مل گئے

chorus

تو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخر، تو ہی ظاہر ہےتیرے عشق میں ڈوبنا ہی، میرا مقدر ہےمیں مٹ رہا ہوں، کہ تجھ میں بکھر جاؤںتیری ذات کا حصہ، میں اب بن کے ابھر جاؤں

outro

میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تو ہےذرے ذرے میں، تیری ہی جستجو ہےتیرے عشق میں، فنا ہی بقا ہےبس تو ہی ہے، بس تو ہی ہےبس تو ہی ہے...

ذات کا سمندر

سحرِ وجد

Preview