Skip to content
Duration3:20

شہرِ سنگلاخ

خاکسار

پاکستانی ہپ ہاپ

About

ایک گہری اور جذباتی ٹریک جس میں جدید ٹریپ بیٹس کے ساتھ طبلے کی تھاپ اور سارنگی کے نمونے شامل کیے گئے ہیں۔ یہ گانا کراچی کی گلیوں کی حقیقتوں اور جدوجہد کو بیان کرتا ہے، جس میں بھاری 808 باس اور تیز ہائی ہیٹ رولز کا استعمال کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

سڑکوں کی دھول میں لپٹا میرا نام ہےیہ شہرِ سنگلاخ اب میرا مقام ہےجو دیکھے تھے خواب، وہ بکھر گئے ہیںپر حوصلوں کے ہاتھ میں اب بھی لگام ہے

verse

گلیاں تنگ، لیکن سوچ میری وسیع ہےہر ایک موڑ پہ کھڑی ایک نئی مصیبت ہےیہاں پیٹ کی آگ بجھانے کو لوگ بھاگتےاور انصاف کی دہلیز پہ ہر کوئی خاموش ہےمیں لکھتا ہوں سچ، میری سیاہی میں خون ہےیہ شہرِ بے حس، یہاں سب کچھ ہی زبوں ہےمیری آنکھوں میں چمک ہے، اگرچہ جیب خالیپر میرے الفاظ ہی میرا اصل سکون ہے

chorus

یہ میری پہچان ہے، یہ میرا ہی راستہ ہےمیری ہمت کا ہر ایک لفظ اک واسطہ ہےگرتے ہیں سنبھلتے ہیں، ہم ہارتے نہیںیہ شہرِ بے پناہ، میرا ہی تو واسطہ ہے

verse

کبھی سوچتا ہوں کیا ملے گا یہ سب کر کے؟کیا بدل جائے گا نظام، یوں ہی مر مر کے؟بڑے محلوں کی چھتوں سے نیچے دیکھولوگ جی رہے ہیں یہاں پل پل ڈر ڈر کےمیری آواز میں ہے زور، میری بات میں وزن ہےیہ جو خاموشی ہے، یہ بھی ایک چبھن ہےمیں اٹھ کھڑا ہوا ہوں، اب پیچھے نہیں ہٹنامیری منزل دور ہے، پر میرا عزم روشن ہے

bridge

اندھیروں سے لڑنا، اب میری عادت ہےسچ بولنا ہی میری سب سے بڑی طاقت ہےجو گرایا گیا، وہی پھر سے ابھرے گایہ وقت کی لہر، میری اپنی ہی قسمت ہے

chorus

یہ میری پہچان ہے، یہ میرا ہی راستہ ہےمیری ہمت کا ہر ایک لفظ اک واسطہ ہےگرتے ہیں سنبھلتے ہیں، ہم ہارتے نہیںیہ شہرِ بے پناہ، میرا ہی تو واسطہ ہے

outro

یہ شہر نہیں، یہ میرا گھر ہےتکلیفیں ہیں، پر حوصلہ بھی سر پر ہےچلتے رہنا ہے، جب تک سانس باقی ہےمیری کہانی، اب ہر ایک کے دل میں گھر ہے

شہرِ سنگلاخ

خاکسار

Preview

شہرِ سنگلاخ by خاکسار | EchoLoRA: Generate a Song with AI