بکھرے ہوئے خواب
شہریار ساجد
پاکستانی فلمی موسیقی
About
یہ گیت ایک کلاسیکی لالی وڈ انداز کی پیشکش ہے جس میں طبلے کی گہری تھاپ اور سنیمائی سٹرنگز کا خوبصورت امتزاج ہے۔ گیت کی دھن میں ہارمونیم کی پرسوز آواز اور جذباتی ووکال فریزنگ شامل ہے جو سامعین کو ایک پرانی یادوں کے سفر پر لے جاتی ہے۔
Lyrics
تنہائی کی دیواروں پر، یادوں کے کچھ سائے ہیںاک مدت سے ہم نے خود کو، خود سے ہی چھپائے ہیں
تیری گلی کے موڑ پہ ٹھہری، میری ادھوری سوچیں ابتیرے بن یہ شہر بھی سونا، جیسے ویران کوئی شبکتابِ زیست کے ہر صفحے پر، تیرا نام ہی لکھا ہےدل کے کسی کونے میں ہم نے، تیرا درد ہی رکھا ہے
آنکھوں میں جو نمی سی ہے، یہ تیری دی ہوئی سوغات ہےتیرے بغیر تو زندگی، بس ایک طویل سی رات ہے
کاش کہ ہم مل پاتے، ان بکھرے ہوئے خوابوں میںتیری خوشبو ڈھونڈ رہے ہیں، ہم آج بھی ان گلابوں میںیہ دوری اب مٹتی نہیں، یہ فاصلے کم ہوتے نہیںہم تیرے بن جیتے ہیں مگر، اب ہم بھی ہم ہوتے نہیں
موسم بدل کے آئے ہیں، پر دل کا موسم وہی ہےتیرے لیے جو دھڑکتا تھا، اب بھی وہ غمگین وہی ہےخط جو لکھے تھے کبھی، وہ آج بھی الماری میں قید ہیںتیری یادوں کی زنجیروں میں، اب ہم خود ہی قید ہیں
کوئی تو راستہ ہو ایسا، جو تجھ تک لے کے جائے مجھےتیرے قدموں کے نشان ملیں، اور سکون آ جائے مجھےیہ خاموشی جو لبوں پر ہے، اب چیخنے لگی ہے کہیںتیرے بن تو میرا کوئی ٹھکانہ، اس دنیا میں نہیں
کاش کہ ہم مل پاتے، ان بکھرے ہوئے خوابوں میںتیری خوشبو ڈھونڈ رہے ہیں، ہم آج بھی ان گلابوں میںیہ دوری اب مٹتی نہیں، یہ فاصلے کم ہوتے نہیںہم تیرے بن جیتے ہیں مگر، اب ہم بھی ہم ہوتے نہیں
اب ہم بھی ہم ہوتے نہیں...بس تیری یادیں باقی ہیں...صرف تیری یادیں...خاموشی... اور بس تیری یادیں...
بکھرے ہوئے خواب
شہریار ساجد
Preview