دیوانگیِ سجدہ
شمس تبریز چشتی
قوالی
About
یہ قوالی ایک جذباتی روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گونج اور طبلے کی تھاپ کے ساتھ صوفیانہ وجد کو پیش کیا گیا ہے۔ اس میں روایتی کال اینڈ رسپانس انداز اور تالیوں کی لے کو روحانی کیفیت پیدا کرنے کے لیے استعمال کیا گیا ہے۔
Lyrics
مے کدہ ہے یہ یا کہ سجدہ گاہِ عشق ہےدل میں جو جل رہی ہے وہ کیسی پناہِ عشق ہےخودی کو مٹا کر میں خود سے ملا ہوںیہ کیسی عجب سی راہِ عشق ہے
درِ یار پر سر جھکایا تو جاناکہ جینا اسی کا ہے جو ہو گیا دیوانہہوائیں بھی اب نام تیرا ہی لیں گییہ دل اب نہ مانے گا کوئی بہانہتیری یاد کی خوشبو مہکنے لگی ہےمیری روح اب تو بہکنے لگی ہے
تو ہی اول تو ہی آخر، تو ہی میرا یار ہےتجھ سے ہی تو جینے کا سارا کاروبار ہےمیں تو تیرا ہو چکا، اب تو ہی میرا پیار ہےتجھ سے ہی تو جینے کا سارا کاروبار ہے
میں قطرہ تھا دریا میں آ کر گرا ہوںمیں خود سے نکل کر تجھے پا گیا ہوںنہ مندر نہ مسجد کی قیدیں رہیں ابمیں تجھ میں ہی خود کو چھپا گیا ہوںیہ پردے اٹھا دے، ذرا جلوہ دکھا دےمیں کب سے تیری راہ میں آ گیا ہوں
ہو، ہو، ہو، حقِ موجودہو، ہو، ہو، ذاتِ مقصودتیرا ہی نام، تیرا ہی کاممیرے لبوں پر بس تیرا ہی نام
جل رہا ہوں میں، پگھل رہا ہوں میںتیرے عشق کی آگ میں بدل رہا ہوں میںنہ کوئی دوری، نہ کوئی مجبوریتیرے قدموں میں اب سنبھل رہا ہوں میںدیوانگی ہے، یہ بندگی ہےتیرے لیے اب یہ زندگی ہے
کبھی آ کے دیکھ میری ویرانیوں کومیری بے قرار سی ان کہانیوں کومیں سجدوں میں تجھ کو پکارا کروں گامٹا کر اپنی سب نشانیوں کومٹا کر اپنی سب نشانیوں کو
تو ہی اول تو ہی آخر، تو ہی میرا یار ہےتجھ سے ہی تو جینے کا سارا کاروبار ہےمیں تو تیرا ہو چکا، اب تو ہی میرا پیار ہےتجھ سے ہی تو جینے کا سارا کاروبار ہے
سب کچھ میرا تیرے حوالےتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےمیرے دل کے سب تالےتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےمیری سانسوں کی ڈور تیرے ہاتھ میںمیرا ہر ایک لمحہ تیری ذات میں
میں مٹ گیا، میں مٹ گیاتجھ میں ہی تو میں بٹ گیاحق ہے تو، حق ہے توبس تو ہی تو ہےبس تو ہی تو ہےتو ہی تو ہے
دیوانگیِ سجدہ
شمس تبریز چشتی
Preview