Skip to content
مستِ لاہوتی
Duration6:25

مستِ لاہوتی

صوفی شاہد قادری

قوالی

About

یہ قوالی ایک شدید روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کے ڈرون، تال پر مبنی تالیوں اور جوابی آوازوں (call-and-response) کا امتزاج ہے۔ اس کی پروڈکشن میں روایتی طبلہ اور ڈھولک کی گونج کو اولیت دی گئی ہے تاکہ سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جایا جا سکے۔

Lyrics

intro

میرے دل کی دھڑکنوں میں ہے تیرا ہی ناممیری روح کا سکون ہے تیرا ہی کاممیں کھو گیا ہوں تجھ میں اے میرے ساقیاب تو ہی ہے میری صبح اور تو ہی ہے شام

verse

میں تو ایک ذرہ ہوں تیری اس کائنات کاتو ہی تو مالک ہے میری ہر ایک بات کاتیرے در پہ آ کے میں نے سب کچھ پا لیامٹا دیا میں نے وجود اپنے ہر جذبات کامیری ہر سانس میں ہے تیری ہی یاد بسیتو ہی تو ہے حقیقت میرے ان حالات کا

chorus

مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں، یہ کیسا ہے مقامتیری محبت میں خود کو کر دیا میں نے نیلامتیرا ہی عکس ہے میری آنکھوں کے سامنےاے میرے محبوبِ حقیقی، تجھ کو میرا سلام

rhythmic-break

تیرا نام، تیرا نام، تیرا نام ہی ہے میرا جہاںتیرا نام، تیرا نام، تیرا نام ہی ہے میری جانہوئی ہے ایسی مستی مجھ پہ طاریکہ خود کو بھول بیٹھا ہوں میں اس نشے میں یار

crescendo

جل رہا ہے عشق کا دیا میرے سینے کے اندرکھل گئے ہیں اب تو میرے باطن کے سبھی درکوئی مٹائے تو مٹا دے اب میری ہستی کومیں تو ہو چکا ہوں تیرے ہی رنگ میں اب تو بے خبرتیری ہی طلب ہے، تیری ہی پیاس ہےاے میرے مولا، تو ہی تو ہے میرا رہبر

chorus

مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں، یہ کیسا ہے مقامتیری محبت میں خود کو کر دیا میں نے نیلامتیرا ہی عکس ہے میری آنکھوں کے سامنےاے میرے محبوبِ حقیقی، تجھ کو میرا سلام

outro

اب نہ کوئی دوری ہے، نہ کوئی ہے حجابمل گیا ہے مجھے میری ہر دعا کا جوابخاموش ہوں اب میں، تیری خاموشی میں گمتو ہی ہے میری حقیقت، تو ہی ہے میرا خوابتو ہی ہے میرا خوابتو ہی ہے میرا خواب

مستِ لاہوتی

صوفی شاہد قادری

Preview