مستِ لاہوتی
صوفی شاہد قادری
قوالی
About
یہ قوالی ایک شدید روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کے ڈرون، تال پر مبنی تالیوں اور جوابی آوازوں (call-and-response) کا امتزاج ہے۔ اس کی پروڈکشن میں روایتی طبلہ اور ڈھولک کی گونج کو اولیت دی گئی ہے تاکہ سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جایا جا سکے۔
Lyrics
میرے دل کی دھڑکنوں میں ہے تیرا ہی ناممیری روح کا سکون ہے تیرا ہی کاممیں کھو گیا ہوں تجھ میں اے میرے ساقیاب تو ہی ہے میری صبح اور تو ہی ہے شام
میں تو ایک ذرہ ہوں تیری اس کائنات کاتو ہی تو مالک ہے میری ہر ایک بات کاتیرے در پہ آ کے میں نے سب کچھ پا لیامٹا دیا میں نے وجود اپنے ہر جذبات کامیری ہر سانس میں ہے تیری ہی یاد بسیتو ہی تو ہے حقیقت میرے ان حالات کا
مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں، یہ کیسا ہے مقامتیری محبت میں خود کو کر دیا میں نے نیلامتیرا ہی عکس ہے میری آنکھوں کے سامنےاے میرے محبوبِ حقیقی، تجھ کو میرا سلام
تیرا نام، تیرا نام، تیرا نام ہی ہے میرا جہاںتیرا نام، تیرا نام، تیرا نام ہی ہے میری جانہوئی ہے ایسی مستی مجھ پہ طاریکہ خود کو بھول بیٹھا ہوں میں اس نشے میں یار
جل رہا ہے عشق کا دیا میرے سینے کے اندرکھل گئے ہیں اب تو میرے باطن کے سبھی درکوئی مٹائے تو مٹا دے اب میری ہستی کومیں تو ہو چکا ہوں تیرے ہی رنگ میں اب تو بے خبرتیری ہی طلب ہے، تیری ہی پیاس ہےاے میرے مولا، تو ہی تو ہے میرا رہبر
مجھ میں تو ہے، میں تجھ میں ہوں، یہ کیسا ہے مقامتیری محبت میں خود کو کر دیا میں نے نیلامتیرا ہی عکس ہے میری آنکھوں کے سامنےاے میرے محبوبِ حقیقی، تجھ کو میرا سلام
اب نہ کوئی دوری ہے، نہ کوئی ہے حجابمل گیا ہے مجھے میری ہر دعا کا جوابخاموش ہوں اب میں، تیری خاموشی میں گمتو ہی ہے میری حقیقت، تو ہی ہے میرا خوابتو ہی ہے میرا خوابتو ہی ہے میرا خواب
مستِ لاہوتی
صوفی شاہد قادری
Preview