دیارِ عشق کی پکار
روحانِ نقشبندی
Naat
About
ایک روحانی نعت جس میں ہارمونیم کی پرسوز دھن اور طبلے کی دھیمی تال کا امتزاج ہے۔ اس کلام میں میلزماتی صوتی انداز کے ذریعے عشقِ رسول کی گہرائیوں کو بیان کیا گیا ہے، جو سامعین کو ایک پرسکون اور روحانی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
میری آنکھوں کو بخش دے وہ ضیاءجو مدینے کی گلیوں میں بکھری ہوئی ہےمیرا دل مضطرب ہے، میری روح پیاسیتیری یادوں کی خوشبو سے ہے گلستاں یہ بستی
وہ جو رحمت کا دریا بہا کر گئےغم کے ماروں کو جینے کا ڈھنگ سکھا کر گئےجن کے قدموں کی آہٹ سے روشن جہاںوہ جو تاریک راہوں میں شمع جلا کر گئےمیری ہر سانس میں ذکرِ سرکار ہےمیری ہر دھڑکن میں اُن کا ہی پیار ہےمیں بھٹکتا رہا عمر بھر دور تکمگر اُن کی چوکھٹ ہی پر اعتبار ہے
یا نبی، آپ کی یاد میں دل تڑپتا رہےآپ کے عشق میں یہ جہاں مہکتا رہےمیری آنکھوں سے جاری رہے اشکِ شوقآپ کا نام ہونٹوں پہ سدا چمکتا رہے
کوئی رتبہ نہیں ہے زمانے میں ایساجو عطا آپ نے کر دیا، وہ ہے کیسامیں فقیرِ درِ مصطفیٰ ہوں سدامیری کشتی کا ساحل ہے نامِ محمدکبھی سوچا نہیں میں نے دنیا کی دولتبس ایک جھلک اُن کی، یہی میری جنتجو بھی مانگا، وہ پایا ہے اُن کے کرم سےمیری ہستی کا محور ہے اُن کی محبت
یا نبی، آپ کی یاد میں دل تڑپتا رہےآپ کے عشق میں یہ جہاں مہکتا رہےمیری آنکھوں سے جاری رہے اشکِ شوقآپ کا نام ہونٹوں پہ سدا چمکتا رہے
وہ یتیموں کا والی، وہ بے بس کا ساتھیوہ جو حق کی گواہی میں تھی جس کی ہستیجس کی سیرت سے ہم نے یہ سیکھا ہے جیناوہ جو اخلاق کی اک مکمل ہے بستیمیں گنہگار ہوں، پر امید ہے اب بھیکہ وہ تھام لیں گے میرا ہاتھ تب بھیمیری بخشش کا سامان ہے اُن کی الفتوہ چمکتے ہوئے چاند، وہ نورِ نبوت
یا نبی، آپ کی یاد میں دل تڑپتا رہےآپ کے عشق میں یہ جہاں مہکتا رہےمیری آنکھوں سے جاری رہے اشکِ شوقآپ کا نام ہونٹوں پہ سدا چمکتا رہے
وقت گزرے گا، دنیا بدل جائے گییہ کہانی مگر تا ابد جائے گیتیری رحمت کے قصے، تیرے پیار کے چرچےمیری نسلیں بھی اس راہ پر آئیں گیمیں رہوں یا نہ رہوں، یہ صدا گونجے گیتیرے قدموں کی مٹی، مجھے ڈھونڈے گییا محمد، تیری شان سب سے الگ ہےتیرے ذکر سے ہی تو دنیا چمکتی رہے گی
میری سانسیں، میری روح، سب آپ پرمیرا جینا، میرا مرنا، سب آپ پربس ایک بار خواب میں آ کے دیکھومیرا دل لٹ گیا ہے، بس آپ پریا نبی، یا نبی، یا نبی۔
دیارِ عشق کی پکار
روحانِ نقشبندی
Preview