Skip to content
Duration4:34

عہدِ وفا

سید زوار علی

قوالی

About

ایک روایتی قوالی جس میں ہارمونیم کی گونج، ڈھولک کی تھاپ اور تالیوں کی گونج شامل ہے۔ یہ کلام روحانی وجد اور عشقِ حقیقی کی تڑپ کو بیان کرتا ہے، جس میں صوفیانہ انداز کی عکاسی کی گئی ہے۔

Lyrics

intro

میرے دل کی لگی کا کیا ٹھکانامیں نے سمجھا تھا اسے ایک بہانہپر اب تو روح پکارتی ہے نام تیراہر سانس میں ہے بس ایک ہی فسانہ

verse

میں بھٹکتا رہا دنیا کی گلیوں میںاپنی ہی ذات کی ان سلجھی ہوئی چالوں میںکبھی سوچا نہ تھا کہ تو ملے گا یہاںمیری ویران اور خالی سی بانہوں میںتیرے در کا گدا اب میں بن گیا ہوںسب چھوڑ کر تیری راہوں میں آ گیا ہوں

chorus

محبوبِ رب، تجھ سے ہے میری پہچانتیرے عشق میں قربان میری ساری آنتیری طلب، تیری تڑپ، تیرا ہی خیالتیرے قدموں میں ہے میری روح کا جہان

rhythmic-break

تڑپ، تڑپ کر پکارتا ہے یہ دلکب ہوگا وصل، کب ہوگا حاصلذکر تیرا، فکر تیرا، ہر پل تیراتو ہی تو ہے، باقی سب ہے باطل

crescendo

اوڑھ لی ہے میں نے اب تیرے نام کی چادرمٹ گئی ہے مجھ سے میری ہر ایک انا کی قدرمستی میں ڈوبا، اب ہوش کہاں ہے مجھےتو ہی منزل ہے، تو ہی ہے میرا سفرتیری ہی ضیا سے منور ہے یہ جہاںتیری ہی خوشبو سے مہکتا ہے یہ مکاں

chorus

محبوبِ رب، تجھ سے ہے میری پہچانتیرے عشق میں قربان میری ساری آنتیری طلب، تیری تڑپ، تیرا ہی خیالتیرے قدموں میں ہے میری روح کا جہان

outro

خالی ہاتھ آیا ہوں، بھر دے میری جھولیتیرے عشق کی لگی ہے اب یہ بولیمیں تیرا، تو میرا، یہ عہدِ وفا ہےمیری زندگی اب تیری ہی تو گلی ہےتیری گلی ہے...بس تیری ہی گلی ہے...

عہدِ وفا

سید زوار علی

Preview