عہدِ وفا
سید زوار علی
قوالی
About
ایک روایتی قوالی جس میں ہارمونیم کی گونج، ڈھولک کی تھاپ اور تالیوں کی گونج شامل ہے۔ یہ کلام روحانی وجد اور عشقِ حقیقی کی تڑپ کو بیان کرتا ہے، جس میں صوفیانہ انداز کی عکاسی کی گئی ہے۔
Lyrics
میرے دل کی لگی کا کیا ٹھکانامیں نے سمجھا تھا اسے ایک بہانہپر اب تو روح پکارتی ہے نام تیراہر سانس میں ہے بس ایک ہی فسانہ
میں بھٹکتا رہا دنیا کی گلیوں میںاپنی ہی ذات کی ان سلجھی ہوئی چالوں میںکبھی سوچا نہ تھا کہ تو ملے گا یہاںمیری ویران اور خالی سی بانہوں میںتیرے در کا گدا اب میں بن گیا ہوںسب چھوڑ کر تیری راہوں میں آ گیا ہوں
محبوبِ رب، تجھ سے ہے میری پہچانتیرے عشق میں قربان میری ساری آنتیری طلب، تیری تڑپ، تیرا ہی خیالتیرے قدموں میں ہے میری روح کا جہان
تڑپ، تڑپ کر پکارتا ہے یہ دلکب ہوگا وصل، کب ہوگا حاصلذکر تیرا، فکر تیرا، ہر پل تیراتو ہی تو ہے، باقی سب ہے باطل
اوڑھ لی ہے میں نے اب تیرے نام کی چادرمٹ گئی ہے مجھ سے میری ہر ایک انا کی قدرمستی میں ڈوبا، اب ہوش کہاں ہے مجھےتو ہی منزل ہے، تو ہی ہے میرا سفرتیری ہی ضیا سے منور ہے یہ جہاںتیری ہی خوشبو سے مہکتا ہے یہ مکاں
محبوبِ رب، تجھ سے ہے میری پہچانتیرے عشق میں قربان میری ساری آنتیری طلب، تیری تڑپ، تیرا ہی خیالتیرے قدموں میں ہے میری روح کا جہان
خالی ہاتھ آیا ہوں، بھر دے میری جھولیتیرے عشق کی لگی ہے اب یہ بولیمیں تیرا، تو میرا، یہ عہدِ وفا ہےمیری زندگی اب تیری ہی تو گلی ہےتیری گلی ہے...بس تیری ہی گلی ہے...
عہدِ وفا
سید زوار علی
Preview