خوابوں کا جہاں
احلام خان
غزل
About
ایک روایتی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی نپی تلی تھاپ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ یہ ووکال سینٹرڈ مکس شاعرانہ گہرائی اور جذباتی کیفیت کو اجاگر کرتا ہے، جو سننے والے کو ایک پرسکون اور فکر انگیز ماحول میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹ سے، یہ دل کچھ اور دھڑکتا ہےتیری یادوں کا موسم، اب پلکوں پہ ہی برستا ہےمیں نے کب کہا تھا کہ، تو مجھے اپنا بنا لے گامحبت کا یہ سودا تو، خود ہی خود سے لڑتا ہے
تیری آنکھوں میں خوابوں کا، اک نیا جہان دیکھا ہےمیں نے خود کو تیرے ہی، نام پہ قربان دیکھا ہےتیری آنکھوں میں خوابوں کا، اک نیا جہان دیکھا ہے
وہ جو ہم نے کبھی، خاموشی میں باتیں کی تھیںان لفظوں کا بوجھ، آج بھی روح پہ ہی کھرتا ہےتیرا جانا تو بس، ایک لمحے کا قصہ تھا مگریہ ہجر کا سفر تو، عمر بھر کا ہی راستہ ہے
تیری آنکھوں میں خوابوں کا، اک نیا جہان دیکھا ہےمیں نے خود کو تیرے ہی، نام پہ قربان دیکھا ہے
اب تو بس تیری ہی، یادوں کا بسیرا ہے یہاںتیرے بن یہ دل، اب تنہا ہی بکھرتا ہےتیرے بن یہ دل، اب تنہا ہی بکھرتا ہے
خوابوں کا جہاں
احلام خان
Preview