مدینے کا بسیرا
نورالدین مدنی
Naat
About
یہ کلام ایک پرسکون ہارمونیم کی دھن اور طبلہ کی روایتی تھاپ پر مبنی ہے، جس میں فنکار نے اپنی آواز کی پیچیدہ لرزش اور سریلی ادائیگی کا استعمال کیا ہے۔ اس نعت کا مقصد روح کو سکون پہنچانا اور حضورِ اکرم ﷺ سے عقیدت کا اظہار کرنا ہے۔
Lyrics
تیرے در کی فضاؤں میں عجب اک نور بستا ہےمیری روحِ پریشاں کو تیرا ہی نام ہنستا ہےبھروسہ ہے مجھے تیری محبت کی عنایت پرتیری چوکھٹ پہ ہی آ کر ہر اک غم دھل سا جاتا ہے
مدینے کی وہ گلیاں اور وہ ٹھنڈی ہواؤں کا بسیرامیرے دل کے اندھیروں میں تیری یادوں کا ہے ڈیرامیں بھٹکا ہوں زمانے کی کثافت میں کہیں گمشدہتیری نسبت ہی تو ہے جو مٹاتی ہے میرا ہر اندھیراجو تیری دید کی حسرت میں پلکیں بھیگ جاتی ہیںوہ آنسو عرش پر جا کر ستارے بن کے چمکتے ہیں
یا نبی، تیری الفت میں ہی تو میری نجات ہےتیرے ذکرِ جمیل سے روشن میری کائنات ہےمیں گنہگار سہی، تیری رحمت کا طلبگار ہوںتیرے در کا سوالی ہوں، یہی میری سب سے بڑی بات ہے
وہ جن کی ایک نظر سے بدل جاتی ہیں تقدیریںوہ جن کے نقشِ پا سے بنتی ہیں جنت کی تصویریںسنا ہے جب بھی کوئی نام لیتا ہے محبت سےتو لرز اٹھتی ہیں بے ساختہ دل کی سبھی زنجیریںمیں کیسے بیاں کروں وہ شانِ عجز و انکساری کوجن کی خاکِ قدم سے معطر ہیں زمین کی سبھی جاگیریں
یا نبی، تیری الفت میں ہی تو میری نجات ہےتیرے ذکرِ جمیل سے روشن میری کائنات ہےمیں گنہگار سہی، تیری رحمت کا طلبگار ہوںتیرے در کا سوالی ہوں، یہی میری سب سے بڑی بات ہے
کبھی جو تنہائی میں دل میرا بہت گھبراتا ہےتو نامِ پاک تیرا ہی لبوں پر مسکراتا ہےوہ رحمتِ دو جہاں جس کی مثال ممکن نہیں کوئیوہ میرے خوابوں کی تعبیر بن کر دل میں آتا ہےخدا کا فضل ہے مجھ پر کہ میں اس در کا ادنیٰ ہوںمیری ہر سانس میں اب تیری ہی خوشبو کا بسیرا ہے
یا نبی، تیری الفت میں ہی تو میری نجات ہےتیرے ذکرِ جمیل سے روشن میری کائنات ہےمیں گنہگار سہی، تیری رحمت کا طلبگار ہوںتیرے در کا سوالی ہوں، یہی میری سب سے بڑی بات ہے
بس یہی خواہش ہے کہ جب سانسیں میری تھم جائیںتیری چوکھٹ کی مٹی میں میرے سب خواب دفن ہو جائیںسلام اس پر کہ جس نے ہمیں جینے کا قرینہ دیاسلام اس پر کہ جس کی یاد میں ہم خود کو بھول جائیںسلام اس پر، سلام اس پر، سلام اس پرتیری محبت ہی میری آخری پناہ ہےتیری محبت ہی میری آخری پناہ ہے
مدینے کا بسیرا
نورالدین مدنی
Preview