Skip to content
♪
Duration4:34

خوابیدہ نسل کے وارث

صدائے مزاحمت

پاکستانی راک

About

ایک طاقتور راک ترانہ جس میں برقی گٹار کی گونج اور روایتی طبلے کی تھاپ کا امتزاج ہے۔ یہ گانا سماجی بے بسی اور بیداری کے موضوعات کو مشرقی راگوں کے ساتھ پیش کرتا ہے۔

Lyrics

intro

خاموشیوں کے شہر میں، شور پل رہا ہےسڑکوں پہ بکھری راکھ میں، کچھ جل رہا ہےوقت کی نبض تھمی ہے، مگر سائے چل رہے ہیںہم خود ہی اپنی کہانی کے قاتل بن رہے ہیں

verse

بند کمروں میں گھٹتی ہوئی یہ سانسیںکتابوں میں دفن ہو گئیں پرانی وہ راتیںدیواروں پہ لکھی تحریریں مٹانے نکلے ہیںہم اپنی ہی ذات کے حصار میں پھنسے نکلے ہیںآنکھوں میں خوابوں کا تماشا، لبوں پہ تالےکون سنے گا اب ہم جیسے بھٹکے ہوئے دیوانے؟

pre-chorus

آسماں سے گرتے ہوئے ستارے گنتے ہیںہم اپنی ہی ہار کے قصیدے خود ہی سنتے ہیںاب تو حد ہو گئی، اب تو کچھ بولنا ہوگاخون میں تیرتی اس بے بسی کو تولنا ہوگا

chorus

یہ کیسی آگ ہے جو بجھنے کا نام نہیں لیتییہ کیسی پیاس ہے جو پلکوں کو آرام نہیں دیتیہم تو زنجیریں توڑ کر اڑنے والے پرندے تھےاب پر کٹے تو زمین پر گر کے ہم شرمندہ تھےجاگ اٹھو اے خوابیدہ نسل کے وارثو!اب خود ہی اپنی تقدیر کے بن جاؤ فریسو

verse

شہر کی گلیوں میں سناٹا، بازاروں میں چیخیںکون لکھ رہا ہے ہمارے مقدر کی یہ لکیریں؟جو سچ تھا وہ چھپ گیا، جو جھوٹ تھا وہ سجا دیاہم نے اپنے ہی ہاتھوں سے آئینہ گرا دیاکب تک یہ نقاب اوڑھ کر جیتے رہو گے؟کب تک اپنی ہی روح کو زہر دیتے رہو گے؟

pre-chorus

آسماں سے گرتے ہوئے ستارے گنتے ہیںہم اپنی ہی ہار کے قصیدے خود ہی سنتے ہیںاب تو حد ہو گئی، اب تو کچھ بولنا ہوگاخون میں تیرتی اس بے بسی کو تولنا ہوگا

chorus

یہ کیسی آگ ہے جو بجھنے کا نام نہیں لیتییہ کیسی پیاس ہے جو پلکوں کو آرام نہیں دیتیہم تو زنجیریں توڑ کر اڑنے والے پرندے تھےاب پر کٹے تو زمین پر گر کے ہم شرمندہ تھےجاگ اٹھو اے خوابیدہ نسل کے وارثو!اب خود ہی اپنی تقدیر کے بن جاؤ فریسو

bridge

دھوپ میں جلنا ہے، بارش میں بھیگنا ہےہمیں تو بس اپنی کہانی کا اگلا صفحہ لکھنا ہےنہ کوئی رہبر، نہ کوئی دستک، نہ کوئی سہارااندھیروں سے لڑ کر ہی تو لانا ہے اجالااک بار تو سچ بولو، اک بار تو لڑ جاؤجو بکھر گئے ہو، تو اب خود ہی سنور جاؤ

tabla-solo
guitar-solo
chorus

یہ کیسی آگ ہے جو بجھنے کا نام نہیں لیتییہ کیسی پیاس ہے جو پلکوں کو آرام نہیں دیتیہم تو زنجیریں توڑ کر اڑنے والے پرندے تھےاب پر کٹے تو زمین پر گر کے ہم شرمندہ تھےجاگ اٹھو اے خوابیدہ نسل کے وارثو!اب خود ہی اپنی تقدیر کے بن جاؤ فریسو

outro

اب خاموشی کا دور ختم ہوانیا ایک سورج، نیا اک عزم ہوااٹھو، چلو، اب رکنا نہیںسچ کے سوا کچھ بھی بکنا نہیںاٹھو... اب رکنا نہیں...بس، اب رکنا نہیں...

خوابیدہ نسل کے وارث

صدائے مزاحمت

Preview