خوابیدہ نسل کے وارث
صدائے مزاحمت
پاکستانی راک
About
ایک طاقتور راک ترانہ جس میں برقی گٹار کی گونج اور روایتی طبلے کی تھاپ کا امتزاج ہے۔ یہ گانا سماجی بے بسی اور بیداری کے موضوعات کو مشرقی راگوں کے ساتھ پیش کرتا ہے۔
Lyrics
خاموشیوں کے شہر میں، شور پل رہا ہےسڑکوں پہ بکھری راکھ میں، کچھ جل رہا ہےوقت کی نبض تھمی ہے، مگر سائے چل رہے ہیںہم خود ہی اپنی کہانی کے قاتل بن رہے ہیں
بند کمروں میں گھٹتی ہوئی یہ سانسیںکتابوں میں دفن ہو گئیں پرانی وہ راتیںدیواروں پہ لکھی تحریریں مٹانے نکلے ہیںہم اپنی ہی ذات کے حصار میں پھنسے نکلے ہیںآنکھوں میں خوابوں کا تماشا، لبوں پہ تالےکون سنے گا اب ہم جیسے بھٹکے ہوئے دیوانے؟
آسماں سے گرتے ہوئے ستارے گنتے ہیںہم اپنی ہی ہار کے قصیدے خود ہی سنتے ہیںاب تو حد ہو گئی، اب تو کچھ بولنا ہوگاخون میں تیرتی اس بے بسی کو تولنا ہوگا
یہ کیسی آگ ہے جو بجھنے کا نام نہیں لیتییہ کیسی پیاس ہے جو پلکوں کو آرام نہیں دیتیہم تو زنجیریں توڑ کر اڑنے والے پرندے تھےاب پر کٹے تو زمین پر گر کے ہم شرمندہ تھےجاگ اٹھو اے خوابیدہ نسل کے وارثو!اب خود ہی اپنی تقدیر کے بن جاؤ فریسو
شہر کی گلیوں میں سناٹا، بازاروں میں چیخیںکون لکھ رہا ہے ہمارے مقدر کی یہ لکیریں؟جو سچ تھا وہ چھپ گیا، جو جھوٹ تھا وہ سجا دیاہم نے اپنے ہی ہاتھوں سے آئینہ گرا دیاکب تک یہ نقاب اوڑھ کر جیتے رہو گے؟کب تک اپنی ہی روح کو زہر دیتے رہو گے؟
آسماں سے گرتے ہوئے ستارے گنتے ہیںہم اپنی ہی ہار کے قصیدے خود ہی سنتے ہیںاب تو حد ہو گئی، اب تو کچھ بولنا ہوگاخون میں تیرتی اس بے بسی کو تولنا ہوگا
یہ کیسی آگ ہے جو بجھنے کا نام نہیں لیتییہ کیسی پیاس ہے جو پلکوں کو آرام نہیں دیتیہم تو زنجیریں توڑ کر اڑنے والے پرندے تھےاب پر کٹے تو زمین پر گر کے ہم شرمندہ تھےجاگ اٹھو اے خوابیدہ نسل کے وارثو!اب خود ہی اپنی تقدیر کے بن جاؤ فریسو
دھوپ میں جلنا ہے، بارش میں بھیگنا ہےہمیں تو بس اپنی کہانی کا اگلا صفحہ لکھنا ہےنہ کوئی رہبر، نہ کوئی دستک، نہ کوئی سہارااندھیروں سے لڑ کر ہی تو لانا ہے اجالااک بار تو سچ بولو، اک بار تو لڑ جاؤجو بکھر گئے ہو، تو اب خود ہی سنور جاؤ
یہ کیسی آگ ہے جو بجھنے کا نام نہیں لیتییہ کیسی پیاس ہے جو پلکوں کو آرام نہیں دیتیہم تو زنجیریں توڑ کر اڑنے والے پرندے تھےاب پر کٹے تو زمین پر گر کے ہم شرمندہ تھےجاگ اٹھو اے خوابیدہ نسل کے وارثو!اب خود ہی اپنی تقدیر کے بن جاؤ فریسو
اب خاموشی کا دور ختم ہوانیا ایک سورج، نیا اک عزم ہوااٹھو، چلو، اب رکنا نہیںسچ کے سوا کچھ بھی بکنا نہیںاٹھو... اب رکنا نہیں...بس، اب رکنا نہیں...
خوابیدہ نسل کے وارث
صدائے مزاحمت
Preview