Skip to content
تیری طلب
Duration5:18

تیری طلب

روحانی سفر

قوالی فیوژن

About

یہ گانا روایتی صوفیانہ قوالی اور جدید الیکٹرانک دھنوں کا ایک بہترین امتزاج ہے۔ اس میں ہارمونیئم کی گونج، تالیوں کی تھاپ، اور صوفیانہ شاعری کو جدید بیٹس کے ساتھ جوڑا گیا ہے جو ایک روحانی اور پرجوش ماحول پیدا کرتی ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی پیاس ہےمیری ہر سانس میں بس تیرا ہی احساس ہےمیں کھویا ہوا تھا، خود اپنی ہی ذات میںاب تیری طلب ہی، میری سب سے بڑی بات ہے

verse

اندھیروں میں بھٹکتا تھا، میں خود کو ڈھونڈنے نکلامگر ہر موڑ پر دیکھا، تو بس تیرا ہی جلوہ ملایہ دنیا، یہ بستی، یہ سب مایا کا ہے جالمیں تیری یاد میں گم ہوں، یہی میرا ہے حالنہ کوئی اپنا ہے اب، نہ کوئی پرایا ہےبس تو ہی تو نظر میں، یہ کیسا رنگ لایا ہے

chorus

تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےمیری روح کی پکار، تو ہی تو ہےمیں مٹ گیا، میں بٹ گیاتیرے عشق میں، میں لٹ گیا

vocal improvisation

ہائے رے عشق، ہائے رے مستیتیرے در پر جھکی، یہ ساری ہستیوجد میں ہے دل، ہوش کہاں ہےتیرے سوا اب، کچھ بھی کہاں ہے

verse

میں کیا تھا اور کیا ہو گیا، تیری ایک نظر کے بعدبھول گیا میں سب کچھ، بس تجھے رکھا ہے یادیہ بندھن، یہ رشتے، یہ سب ٹوٹ جائیں گےتیرے عشق کے سمندر میں، ہم ڈوب جائیں گےنہ کوئی فاصلہ باقی، نہ کوئی دیوار ہےتیری محبت ہی، اب میرا کل کاروبار ہے

chorus

تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےمیری روح کی پکار، تو ہی تو ہےمیں مٹ گیا، میں بٹ گیاتیرے عشق میں، میں لٹ گیا

drop

تیرے رنگ میں رنگ گیامیں تو تیرے سنگ گیاتیرے رنگ میں رنگ گیامیں تو تیرے سنگ گیا

outro

خاموش ہوں میں، اب کچھ نہ کہناتیرے قدموں میں، بس عمر بھر رہناتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےبس تو ہی تو ہے

تیری طلب

روحانی سفر

Preview

تیری طلب by روحانی سفر | EchoLoRA: Generate a Song with AI