تیری طلب
روحانی سفر
قوالی فیوژن
About
یہ گانا روایتی صوفیانہ قوالی اور جدید الیکٹرانک دھنوں کا ایک بہترین امتزاج ہے۔ اس میں ہارمونیئم کی گونج، تالیوں کی تھاپ، اور صوفیانہ شاعری کو جدید بیٹس کے ساتھ جوڑا گیا ہے جو ایک روحانی اور پرجوش ماحول پیدا کرتی ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی پیاس ہےمیری ہر سانس میں بس تیرا ہی احساس ہےمیں کھویا ہوا تھا، خود اپنی ہی ذات میںاب تیری طلب ہی، میری سب سے بڑی بات ہے
اندھیروں میں بھٹکتا تھا، میں خود کو ڈھونڈنے نکلامگر ہر موڑ پر دیکھا، تو بس تیرا ہی جلوہ ملایہ دنیا، یہ بستی، یہ سب مایا کا ہے جالمیں تیری یاد میں گم ہوں، یہی میرا ہے حالنہ کوئی اپنا ہے اب، نہ کوئی پرایا ہےبس تو ہی تو نظر میں، یہ کیسا رنگ لایا ہے
تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےمیری روح کی پکار، تو ہی تو ہےمیں مٹ گیا، میں بٹ گیاتیرے عشق میں، میں لٹ گیا
ہائے رے عشق، ہائے رے مستیتیرے در پر جھکی، یہ ساری ہستیوجد میں ہے دل، ہوش کہاں ہےتیرے سوا اب، کچھ بھی کہاں ہے
میں کیا تھا اور کیا ہو گیا، تیری ایک نظر کے بعدبھول گیا میں سب کچھ، بس تجھے رکھا ہے یادیہ بندھن، یہ رشتے، یہ سب ٹوٹ جائیں گےتیرے عشق کے سمندر میں، ہم ڈوب جائیں گےنہ کوئی فاصلہ باقی، نہ کوئی دیوار ہےتیری محبت ہی، اب میرا کل کاروبار ہے
تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےمیری روح کی پکار، تو ہی تو ہےمیں مٹ گیا، میں بٹ گیاتیرے عشق میں، میں لٹ گیا
تیرے رنگ میں رنگ گیامیں تو تیرے سنگ گیاتیرے رنگ میں رنگ گیامیں تو تیرے سنگ گیا
خاموش ہوں میں، اب کچھ نہ کہناتیرے قدموں میں، بس عمر بھر رہناتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےبس تو ہی تو ہے
تیری طلب
روحانی سفر
Preview