خوابوں کا بکھرنا
آرزو فیروز
پاکستانی فلمی موسیقی
About
یہ ایک جذباتی اور سینماٹک گیت ہے جس میں تبلا کی روایتی تھاپ اور گہرے سٹرنگ آرکسٹرا کا امتزاج ہے۔ گیت کے بول تنہائی اور محبت کی دوری کے درد کو بیان کرتے ہیں، جس میں ایک پر اثر آواز اور جدید سازوں کا توازن موجود ہے۔
Lyrics
تنہائیوں کے شہر میں، اک خواب سا بکھرا ہواپلکوں پہ ٹھہرا اشک ہے، یا درد کوئی گہرا ہوا
گلیوں کی ان خاموشیوں میں، تیرا ہی چہرہ ڈھونڈتےہم تھک گئے ہیں راستے، تجھ کو ہی ہر پل سوچتےوہ شام کی وہ سرخیاں، وہ تیری میٹھی گفتگواب یاد بن کے رہ گئیں، کتنا بدل گئے ہیں تو
موسم بدلتے دیکھ کر، ہم نے بھی خود کو موڑ لیاجو رشتہ تھا اک مان کا، وہ آج ہم نے توڑ دیا
یہ جو دوری ہے، یہ جو مجبوری ہےتیرے بن زندگی، کتنی ادھوری ہےآنکھیں ترستی ہیں، راتیں برستی ہیںدل میں چھپی ہوئی، اک ایسی دوری ہے
اک عکس تیرا سامنے، ہر موڑ پہ آ جاتا ہےدل کا بھرم پھر پیار سے، خود کو ہی سمجھاتا ہےتیرے سوا اس بزم میں، کوئی نہیں اپنا رہاہم نے تو جی بھر کے تجھے، ہر سانس میں مانا رہا
کبھی جو ملے فرصت تجھے، پلٹ کے ذرا دیکھناہماری وفاؤں کا بھرم، کبھی تو ذرا سیکھنایہ وقت کی لہریں بھلا، ہم کو کہاں لے جائیں گیتیری یادیں ہی بس، میرے سنگ رہ جائیں گی
یہ جو دوری ہے، یہ جو مجبوری ہےتیرے بن زندگی، کتنی ادھوری ہےآنکھیں ترستی ہیں، راتیں برستی ہیںدل میں چھپی ہوئی، اک ایسی دوری ہے
خواب بکھرے ہوئے، ہم تنہا کھڑےوقت کے ہاتھ میں، اب ہیں ہم تو پڑےبس تیری یاد ہے، اور یہ شام ہےتیرا ہی نام، بس تیرا ہی نام ہے
خوابوں کا بکھرنا
آرزو فیروز
Preview