Skip to content
Duration6:02

ذات کا مسکن

سرمستِ چشتی

صوفیانہ کلام

About

ایک جذباتی صوفیانہ کلام جس میں ہارمونیم کے گہرے ڈرون اور طبلے کے پیچیدہ تال کا امتزاج ہے۔ یہ ٹریک ایک پرجوش اور وجدانی کیفیت پیدا کرتا ہے جو سامعین کو روحانی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

میں خاک ہوں، میں گرد ہوں، میں کچھ بھی نہیں ہوںتیرے در کا ایک بھٹکا ہوا مسافر ہوںبس تیری طلب ہے، اور تیری ہی جستجو ہےخالی ہاتھ ہوں، پر دل میں ایک آرزو ہے

verse

میں نے ڈھونڈا تجھے ہر سو، ہر ایک گلی میںتیری خوشبو ملی مجھے تیری ہی کلی میںمیں خود کو مٹا کر تجھ میں سمایا ہوںتیری راہوں میں اپنا سر جھکایا ہوںنہ کوئی رشتہ ہے میرا، نہ کوئی نام ہے میرابس تیرے ذکر سے ہی تو آرام ہے میرا

vocal-improvisation

ہائے رے، ہائے رے، عشق تیراہائے رے، ہائے رے، رنگ تیرامیں تو فنا ہوا، میں تو مٹا ہواتجھ میں ہی کھویا، تجھ میں ہی بسا ہوا

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیرے ٹوٹے ہوئے دل کا تو ہی مسکن ہےمیں تیری ذات میں گم، تو میری روح میں ہےمیری ہر سانس میں تیری ہی ایک گونج ہے

verse

دنیا کی محفلیں سب سراب لگتی ہیںتیری یاد کے بغیر ہر خواب عذاب لگتی ہیںمیں نے توڑا ہے ہر بندھن، ہر ایک زنجیر کودیکھ رہا ہوں میں اب بس تیری ہی تصویر کونہ کوئی منزل ہے باقی، نہ کوئی راستہ ہےتیری محبت ہی تو میرا واحد واسطہ ہے

vocal-improvisation

یا رب، یا رب، سن لے پکار میریتیرے حضور میں ہے یہ التجا میریمیں تو ہوں تیرا، تو ہے میرامٹ جائے ہر فاصلہ، مٹ جائے دوری کا اندھیرا

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیرے ٹوٹے ہوئے دل کا تو ہی مسکن ہےمیں تیری ذات میں گم، تو میری روح میں ہےمیری ہر سانس میں تیری ہی ایک گونج ہے

climax

میں مٹ گیا، میں مٹ گیا، میں فنا ہو گیامیں تیری ہی بانہوں میں جا کر بسا ہو گیاکوئی نہیں ہے یہاں، صرف تو ہی تو ہےمیری ہستی کا ہر ذرہ اب تجھ میں ہی ڈھل گیاوجد میں ہے روح، اب کوئی ہوش نہیںتیرے سوا مجھے کسی کا بھی جوش نہیں

outro

خاموش ہوں میں، اب کچھ نہیں کہناتیرے ہی رنگ میں، ہمیشہ ہے رہنابس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری روح کا سکون، بس تو ہی تو ہےفنا ہو گیا، فنا ہو گیا، میں تجھ میں فنا ہو گیا

ذات کا مسکن

سرمستِ چشتی

Preview

ذات کا مسکن by سرمستِ چشتی | EchoLoRA: Generate a Song with AI