ذات کا مسکن
سرمستِ چشتی
صوفیانہ کلام
About
ایک جذباتی صوفیانہ کلام جس میں ہارمونیم کے گہرے ڈرون اور طبلے کے پیچیدہ تال کا امتزاج ہے۔ یہ ٹریک ایک پرجوش اور وجدانی کیفیت پیدا کرتا ہے جو سامعین کو روحانی بلندیوں تک لے جاتا ہے۔
Lyrics
میں خاک ہوں، میں گرد ہوں، میں کچھ بھی نہیں ہوںتیرے در کا ایک بھٹکا ہوا مسافر ہوںبس تیری طلب ہے، اور تیری ہی جستجو ہےخالی ہاتھ ہوں، پر دل میں ایک آرزو ہے
میں نے ڈھونڈا تجھے ہر سو، ہر ایک گلی میںتیری خوشبو ملی مجھے تیری ہی کلی میںمیں خود کو مٹا کر تجھ میں سمایا ہوںتیری راہوں میں اپنا سر جھکایا ہوںنہ کوئی رشتہ ہے میرا، نہ کوئی نام ہے میرابس تیرے ذکر سے ہی تو آرام ہے میرا
ہائے رے، ہائے رے، عشق تیراہائے رے، ہائے رے، رنگ تیرامیں تو فنا ہوا، میں تو مٹا ہواتجھ میں ہی کھویا، تجھ میں ہی بسا ہوا
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیرے ٹوٹے ہوئے دل کا تو ہی مسکن ہےمیں تیری ذات میں گم، تو میری روح میں ہےمیری ہر سانس میں تیری ہی ایک گونج ہے
دنیا کی محفلیں سب سراب لگتی ہیںتیری یاد کے بغیر ہر خواب عذاب لگتی ہیںمیں نے توڑا ہے ہر بندھن، ہر ایک زنجیر کودیکھ رہا ہوں میں اب بس تیری ہی تصویر کونہ کوئی منزل ہے باقی، نہ کوئی راستہ ہےتیری محبت ہی تو میرا واحد واسطہ ہے
یا رب، یا رب، سن لے پکار میریتیرے حضور میں ہے یہ التجا میریمیں تو ہوں تیرا، تو ہے میرامٹ جائے ہر فاصلہ، مٹ جائے دوری کا اندھیرا
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیرے ٹوٹے ہوئے دل کا تو ہی مسکن ہےمیں تیری ذات میں گم، تو میری روح میں ہےمیری ہر سانس میں تیری ہی ایک گونج ہے
میں مٹ گیا، میں مٹ گیا، میں فنا ہو گیامیں تیری ہی بانہوں میں جا کر بسا ہو گیاکوئی نہیں ہے یہاں، صرف تو ہی تو ہےمیری ہستی کا ہر ذرہ اب تجھ میں ہی ڈھل گیاوجد میں ہے روح، اب کوئی ہوش نہیںتیرے سوا مجھے کسی کا بھی جوش نہیں
خاموش ہوں میں، اب کچھ نہیں کہناتیرے ہی رنگ میں، ہمیشہ ہے رہنابس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری روح کا سکون، بس تو ہی تو ہےفنا ہو گیا، فنا ہو گیا، میں تجھ میں فنا ہو گیا
ذات کا مسکن
سرمستِ چشتی
Preview