سفرِ مدینہ کی تڑپ
سید عمار علی نقشبندی
Naat
About
ایک روحانی نعت جو ہارمونیم کی پرسوز دھن اور طبلہ کی دھیمی تھاپ پر مبنی ہے۔ اس میں گلوکاری کا انداز انتہائی پرکشش اور تان اور پلٹوں سے مزین ہے، جو سننے والے کے دل کو سکون بخشتا ہے۔
Lyrics
سرکارِ دو عالم کی ضیا آنکھوں میں بس جائےذرہ ذرہ نعتِ نبی کی خوشبو سے مہک جائے
وہ جو رحمت بن کر آئے، ظلمتوں کو مٹا گئےبھٹکے ہوئے انسانوں کو سیدھی راہ دکھا گئےخلقِ عظیم کا پیکر، سراپا نورِ ہدایت ہیںان کی ایک نظر سے ٹوٹے ہوئے دل سنور جائیں
صلی اللہ علیہ وسلم، میری سانسوں کا یہ گیت ہےآپ کی محبت ہی تو دنیا کی اصل جیت ہےلبوں پہ نامِ مصطفیٰ، دل میں ان کی یاد ہےیہی تو میری زندگی، یہی میری مراد ہے
مدینہ کی وہ گلیاں، وہ روضے کی ٹھنڈی چھاؤںکاش میں پلکوں سے وہاں کی دھول اٹھاؤںتڑپتا ہے دل میرا، بس ایک بار بلا لیجیےاپنی چوکھٹ کے سامنے، مجھ کو بھی بٹھا لیجیے
صلی اللہ علیہ وسلم، میری سانسوں کا یہ گیت ہےآپ کی محبت ہی تو دنیا کی اصل جیت ہےلبوں پہ نامِ مصطفیٰ، دل میں ان کی یاد ہےیہی تو میری زندگی، یہی میری مراد ہے
یا نبی، یا رسول، تیرے در کا میں سائل ہوںتیری نعت کے رنگ میں، میں تو مکمل ہوںدرود و سلام ان پر، ہمیشہ اور سدا رہےدل کی ہر دھڑکن میں، بس ان کا ہی نام رہے
سفرِ مدینہ کی تڑپ
سید عمار علی نقشبندی
Preview