مسافرِ خیال
روحِ سرمد
کوک اسٹوڈیو فیوژن
About
ایک گہرا اور جذباتی فیوژن ٹریک جس میں رباب کی سریلی دھنوں کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور طبلے کی تھاپ کے ساتھ پروڈیوس کیا گیا ہے۔ یہ گیت کلاسیکی راگ اور جدید پاپ موسیقی کا حسین امتزاج ہے، جس میں صوفیانہ رنگ اور گہرے احساسات نمایاں ہیں۔
Lyrics
تیرے در کا مسافر ہوں، بھٹکتا پھر رہا ہوں میںخیالوں کی اس بستی میں، اکیلا جل رہا ہوں میں
کبھی سوچا نہ تھا یہ فیصلہ بھی ہو گاکہ اپنے آپ سے ہی فاصلہ بھی ہو گاوہ جو خوشبو تھی تیری، اب کہاں کھو گئی ہےمیری تنہائی بھی اب مجھ سے خفا ہو گئی ہے
یہ رستے، یہ گلیاں، یہ خاموش منظرتیرے نام کا لکھا ہے ہر ایک اکترمیں ڈھونڈوں کہاں تجھ کو، اے میرے ہم سفرکہ میری سانسوں میں ہے تیرا ہی گھر
آسماں سے گرا ہے کوئی ٹوٹا ستارہمیرے اندر کا سونا، اب ہوا ہے آوارہدھڑکنوں میں ہے شور، لب پہ خاموشیاںہم نے پائی ہیں کتنی ہی بے چینیاں
تو ہی تو ہے، میری روح کا ایک ٹھکانہتجھ کو پانا ہی ہے، اب تو بس یہ بہانہیہ سفر ہے تیرا، یہ سفر ہے میرااس اندھیرے میں ہے بس تیرا ہی سویرا
پرانی کتابوں کے اوراق پلٹےتو یادوں کے منظر ہیں واپس پلٹےوہ بچپن کی باتیں، وہ ہنستے ہوئے دناب کٹتے نہیں ہیں، تیرے بن یہ سب دن
اے ہوا، ذرا تھم جا، میری بات سن لےاس دل کی لگی کا تو کچھ تو وزن لےمیں ٹوٹا ہوا ایک ستارہ نہیں ہوںمیں خاکِ رہگزر کا اشارہ نہیں ہوں
آسماں سے گرا ہے کوئی ٹوٹا ستارہمیرے اندر کا سونا، اب ہوا ہے آوارہدھڑکنوں میں ہے شور، لب پہ خاموشیاںہم نے پائی ہیں کتنی ہی بے چینیاں
تو ہی تو ہے، میری روح کا ایک ٹھکانہتجھ کو پانا ہی ہے، اب تو بس یہ بہانہیہ سفر ہے تیرا، یہ سفر ہے میرااس اندھیرے میں ہے بس تیرا ہی سویرا
میری ہر دعا میں تیرا ذکر شاملمیری ہر خطا کا تو ہی ہے حاصلجو بکھرا ہوا تھا، وہ سنورنے لگا ہےتیرا عکس مجھ میں اب اترنے لگا ہے
بس تیرا ہی سویرابس تیرا ہی سویراخاموشیوں میں گونجتا ہےتیرا ہی نام، بس تیرا ہی نامتیرے در کا مسافر...تیرے در کا مسافر...تیرے در کا مسافر ہوں میں۔
مسافرِ خیال
روحِ سرمد
Preview