تیرے در کی فضاؤں میں
مصباح رضوی
نعت
About
ایک روحانی نعت جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی روایتی تھاپ کا امتزاج ہے۔ اس نعت میں گلوکار کی پر سوز اور مرصع آواز، عقیدت اور محبت کے جذبات کو انتہائی خوبصورتی سے پیش کرتی ہے۔
Lyrics
تیرے در کی فضاؤں میں سکونِ قلب پاتا ہوںمیں اپنی بے سکونی کو، تیرے قدموں میں لاتا ہوںمدینے کی وہ گلیاں، اور وہ ٹھنڈی ہواؤں کا بسیرامیں تیری یاد کے ساۓ میں، خود کو بھول جاتا ہوں
میری آنکھوں میں نمی ہے، اور لبوں پر تیرا ہی نام ہےتیرے ذکر سے ہی تو، میری زندگی میں قیام ہےکبھی جو سوچتا ہوں، اپنی خطاؤں کا بوجھ لے کرتو تیری رحمت کا دامن، میرے گناہوں کا انعام ہےتیری نگاہِ کرم ہو تو، پتھر بھی موم ہو جاۓتیری چوکھٹ پہ سر رکھ کر، ہر غمِ دوراں تمام ہے
یا نبی، یا رسول، میری سن لو پکارتیری الفت میں گزرے، میری لیل و نہارتیرے صدقے میں دنیا، تیری رحمت کا سایہتیرے قدموں کے نیچے، ہے جنت کا گلزار
وہ جن کی ایک جھلک سے، کائنات کا ذرہ چمک اٹھاوہ جن کے نور سے سارا، اندھیرا جہاں دمک اٹھاکبھی جو یاد آتی ہے، تیرے روضے کی وہ خوشبوتو دل کا ہر زخم میرا، گلاب بن کے مہک اٹھامیں کس زبان سے کروں، تیری تعریف اے آقاتیرے اوصاف سن کر تو، زمانہ سارا بہک اٹھا
یا نبی، یا رسول، میری سن لو پکارتیری الفت میں گزرے، میری لیل و نہارتیرے صدقے میں دنیا، تیری رحمت کا سایہتیرے قدموں کے نیچے، ہے جنت کا گلزار
مجھے بلوا لے اپنے در پہ، اے شہِ لولاکِ محترممیں آرزو لیے بیٹھا ہوں، مٹا دے میرے سب ستمتیری چوکھٹ پہ جب پہنچوں، تو آنسوؤں کی بارش ہومیری بکھری ہوئی روح کو، مل جاۓ تیرے در کا بھرمتیرا ہی ذکر ہے وردِ زباں، تیرا ہی پیار ہے میرا دینتیری چوکھٹ پہ ہی آ کر، ملے گا دل کو میرے دم
یا نبی، یا رسول، میری سن لو پکارتیری الفت میں گزرے، میری لیل و نہارتیرے صدقے میں دنیا، تیری رحمت کا سایہتیرے قدموں کے نیچے، ہے جنت کا گلزار
یہ کائنات کی رونق، یہ چاند تارے اور یہ آسماںسب تیری ہی تجلی ہے، سب تیرا ہی ہے کارواںجو تیرے در سے وابستہ ہے، اسے کیا فکرِ محشر کیتیری شفاعت ہی تو ہے، میرا اصلِ ایماںمجھے بس ایک نظر دیکھ لے، اے میرے پیارے نبیمیری بخشش کا پروانہ، تیری چوکھٹ سے ہو بیاں
یا نبی، یا رسول، میری سن لو پکارتیری الفت میں گزرے، میری لیل و نہارتیرے صدقے میں دنیا، تیری رحمت کا سایہتیرے قدموں کے نیچے، ہے جنت کا گلزار
تیرے در پہ ہی مرنا ہے، یہی اب میری حسرت ہےتیرے نام پہ ہی جینا ہے، یہی اب میری دولت ہےمدینہ دور ہے لیکن، میرا دل وہیں بستا ہےتیری یادوں سے ہی تو، میری روح میں راحت ہےیا نبی، یا نبی، یا نبی۔۔۔
تیرے در کی فضاؤں میں
مصباح رضوی
Preview