Skip to content
پیاس کا سفر
Duration5:10

پیاس کا سفر

آفتابِ غزل

غزل

About

یہ غزل ایک جذباتی اور صوتی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی روایتی تال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ووکل سینٹرڈ مکس کے ذریعے شاعر کے درد اور تنہائی کو انتہائی باریکی سے پیش کیا گیا ہے، جو سامعین کو ایک پراسرار اور پرسکون دنیا میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

Intro
Verse

تیری یادوں کے موسم میں تنہائی کا ڈیرا ہےدلِ وحشی نے اب تک بس تیرے نام کو گھیرا ہےوہ جو کل تک چراغِ شب تھا، بجھ سا گیا ہے ابمیری آنکھوں میں باقی بس اک دھندلا سا چہرہ ہے

Refrain

کیسی یہ پیاس ہے جو لبوں تک آ کر رک گئیتیری راہوں میں سانسوں نے اپنا آپ ہی بکھھیرا ہےکیسی یہ پیاس ہے جو لبوں تک آ کر رک گئیتیری راہوں میں سانسوں نے اپنا آپ ہی بکھھیرا ہے

Instrumental-break
Verse

نہ کوئی خبر آئی، نہ کوئی پیغام ملا مجھےمحبت کے اس صحرا میں بس درد کا ہی ڈیرا ہےمیں ڈھونڈتا رہا تجھے ہر آئینے کے عکس میںمگر ہر آئینے نے مجھے خود سے ہی تو پھیرا ہے

Refrain

کیسی یہ پیاس ہے جو لبوں تک آ کر رک گئیتیری راہوں میں سانسوں نے اپنا آپ ہی بکھھیرا ہےکیسی یہ پیاس ہے جو لبوں تک آ کر رک گئیتیری راہوں میں سانسوں نے اپنا آپ ہی بکھھیرا ہے

Outro

خاموشیوں کی بستی میں اب شور سا بپا ہےاندھیروں میں بھی میں نے بس تیرا ہی سویرا دیکھا ہےتیرا ہی سویرا دیکھا ہے...

پیاس کا سفر

آفتابِ غزل

Preview