پیاس کا سفر
آفتابِ غزل
غزل
About
یہ غزل ایک جذباتی اور صوتی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی روایتی تال کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ ووکل سینٹرڈ مکس کے ذریعے شاعر کے درد اور تنہائی کو انتہائی باریکی سے پیش کیا گیا ہے، جو سامعین کو ایک پراسرار اور پرسکون دنیا میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیری یادوں کے موسم میں تنہائی کا ڈیرا ہےدلِ وحشی نے اب تک بس تیرے نام کو گھیرا ہےوہ جو کل تک چراغِ شب تھا، بجھ سا گیا ہے ابمیری آنکھوں میں باقی بس اک دھندلا سا چہرہ ہے
کیسی یہ پیاس ہے جو لبوں تک آ کر رک گئیتیری راہوں میں سانسوں نے اپنا آپ ہی بکھھیرا ہےکیسی یہ پیاس ہے جو لبوں تک آ کر رک گئیتیری راہوں میں سانسوں نے اپنا آپ ہی بکھھیرا ہے
نہ کوئی خبر آئی، نہ کوئی پیغام ملا مجھےمحبت کے اس صحرا میں بس درد کا ہی ڈیرا ہےمیں ڈھونڈتا رہا تجھے ہر آئینے کے عکس میںمگر ہر آئینے نے مجھے خود سے ہی تو پھیرا ہے
کیسی یہ پیاس ہے جو لبوں تک آ کر رک گئیتیری راہوں میں سانسوں نے اپنا آپ ہی بکھھیرا ہےکیسی یہ پیاس ہے جو لبوں تک آ کر رک گئیتیری راہوں میں سانسوں نے اپنا آپ ہی بکھھیرا ہے
خاموشیوں کی بستی میں اب شور سا بپا ہےاندھیروں میں بھی میں نے بس تیرا ہی سویرا دیکھا ہےتیرا ہی سویرا دیکھا ہے...
پیاس کا سفر
آفتابِ غزل
Preview