تیری ذات کا عکس
استاد زاہد رضوی
قوالی
About
یہ قوالی ایک روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گونجتی ہوئی دھنیں اور طبلے کی پیچیدہ تالیں شامل ہیں۔ اس میں روایتی کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی تھاپ کے ساتھ ایک جذباتی عروج پیدا کیا گیا ہے جو صوفیانہ وجد کی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔
Lyrics
مے کدے کی فضا میں یہ کیسا نشہ ہےدل کی دھڑکن میں چھپا اک نیا راستہ ہےتیری یادوں کے دیپ جلتے رہےہم تو بس تیری ہی راہ تکتے رہے
کبھی خود سے ملے تو یہ معلوم ہوامیں تو میں ہی نہیں، سب تیرا ہی رنگ ہےمیری ہستی کے ہر ذرے میں اک پکار ہےتیری چاہت کا یہ کیسا پروردگار ہےمیں تو بھٹکا ہوا اک مسافر تھا صاحبتیری دہلیز نے مجھے خود سے ملا دیا
آ، کہ تجھ بن جینا اب اک سزا ہےتیری الفت ہی تو میری اصل دوا ہےمیں مٹا تو تجھے پا لیا اے میرے مولامیری روح میں اب تیرا ہی ایک سلسلہ ہے
ہو، تجھ سے ہے ابتدا، تجھ پہ انتہاتجھ سے ہے ابتدا، تجھ پہ انتہامیں تو بس ایک عکس ہوں تیری ذات کامیں تو بس ایک عکس ہوں تیری ذات کاتو ہی روشنی، تو ہی راستہ دکھا
تیرا عشق ہی میرا ایمان ہےتیرا عشق ہی میرا ایمان ہےدل کی ہر پکار میں تیرا ہی نام ہےمیں تو فنا ہوا، میں تو فنا ہواتیرے رنگ میں رنگ کے میں تو جدا ہواتیری خوشبو سے مہکا ہے میرا جہاںتیری خوشبو سے مہکا ہے میرا جہاں
اب تو بس تیرا ہی انتظار ہےاب تو بس تیرا ہی انتظار ہےمیری سانسوں میں تیرا ہی قرار ہےتجھ میں کھو گئے، تجھ میں کھو گئےہم تو خود سے دور، تجھ میں ہو گئےہو گئے... ہم تو ہو گئے...
تیری ذات کا عکس
استاد زاہد رضوی
Preview