Skip to content
تیری ذات کا عکس
Duration2:35

تیری ذات کا عکس

استاد زاہد رضوی

قوالی

About

یہ قوالی ایک روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گونجتی ہوئی دھنیں اور طبلے کی پیچیدہ تالیں شامل ہیں۔ اس میں روایتی کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی تھاپ کے ساتھ ایک جذباتی عروج پیدا کیا گیا ہے جو صوفیانہ وجد کی کیفیت کو بیان کرتا ہے۔

Lyrics

intro

مے کدے کی فضا میں یہ کیسا نشہ ہےدل کی دھڑکن میں چھپا اک نیا راستہ ہےتیری یادوں کے دیپ جلتے رہےہم تو بس تیری ہی راہ تکتے رہے

verse

کبھی خود سے ملے تو یہ معلوم ہوامیں تو میں ہی نہیں، سب تیرا ہی رنگ ہےمیری ہستی کے ہر ذرے میں اک پکار ہےتیری چاہت کا یہ کیسا پروردگار ہےمیں تو بھٹکا ہوا اک مسافر تھا صاحبتیری دہلیز نے مجھے خود سے ملا دیا

chorus

آ، کہ تجھ بن جینا اب اک سزا ہےتیری الفت ہی تو میری اصل دوا ہےمیں مٹا تو تجھے پا لیا اے میرے مولامیری روح میں اب تیرا ہی ایک سلسلہ ہے

improvisation

ہو، تجھ سے ہے ابتدا، تجھ پہ انتہاتجھ سے ہے ابتدا، تجھ پہ انتہامیں تو بس ایک عکس ہوں تیری ذات کامیں تو بس ایک عکس ہوں تیری ذات کاتو ہی روشنی، تو ہی راستہ دکھا

crescendo

تیرا عشق ہی میرا ایمان ہےتیرا عشق ہی میرا ایمان ہےدل کی ہر پکار میں تیرا ہی نام ہےمیں تو فنا ہوا، میں تو فنا ہواتیرے رنگ میں رنگ کے میں تو جدا ہواتیری خوشبو سے مہکا ہے میرا جہاںتیری خوشبو سے مہکا ہے میرا جہاں

outro

اب تو بس تیرا ہی انتظار ہےاب تو بس تیرا ہی انتظار ہےمیری سانسوں میں تیرا ہی قرار ہےتجھ میں کھو گئے، تجھ میں کھو گئےہم تو خود سے دور، تجھ میں ہو گئےہو گئے... ہم تو ہو گئے...

تیری ذات کا عکس

استاد زاہد رضوی

Preview

تیری ذات کا عکس by استاد زاہد رضوی | EchoLoRA: Generate a Song with AI