ذات کا نور
ظلِّ عشق
صوفی
About
یہ گیت ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیئم کا مسلسل ڈرون، طبلہ کے پیچیدہ تال، اور پرجوش صوفیانہ آواز (ecstatic-vocal-delivery) شامل ہے۔ یہ تخلیق روح کے خالق سے ملاپ کی تڑپ کو بیان کرتی ہے، جس میں روایتی سازوں کی مدد سے ایک پرسکون اور روحانی فضا پیدا کی گئی ہے۔
Lyrics
تیرے عشق کی چھاؤں میں بیٹھےخود سے ہم بیگانے ہوئےدردِ دل کا قصہ کیا پوچھوہم تو بس دیوانے ہوئے
تیری تلاش میں نکلا تھا میںخود کو ہی گم کر بیٹھا ہوںتیری گلی کے ہر اک موڑ پرمیں اپنا نام لکھ کر بیٹھا ہوںنہ کوئی منزل، نہ کوئی راستہبس تیری یاد کا سایہ ہےجس نے بھی یہ جام پیا ہےاس نے اپنا آپ مٹایا ہے
ہائے رے، ہائے رےتیری طلب، تیری تڑپمجھ میں تو ہی، مجھ میں تو ہیسب کچھ تو ہی
تو ہی اول، تو ہی آخرتیری ذات کا نور ہے ہر سُومیں تو بس ایک بوند ہوں مولابحرِ بے کراں ہے توتیری طلب میں جلنا کیساتیری قربت میں ڈھلنا کیساتو ہی تو ہے، تو ہی تو ہےذرے ذرے میں بس تو ہی تو ہے
دنیا کی یہ رنگینیاں سباک دھوکا، اک خواب ہیںتیری محبت کا یہ نشہآنکھوں کا سیلاب ہےخودی کے بت کو توڑ دیا ہےتیری چوکھٹ پہ سر رکھ کراب تو بس تیرا ہونا ہےجیون سارا تجھ پر وار کر
میں نہیں، میں نہیں، صرف تو ہی تومیری سانسوں میں، میری روح میں، صرف تو ہی توعشق کی آگ میں جل کر دیکھ لیااب راکھ میں بھی بس تو ہی تومٹ گئے ہم تو کیا ہواتیرے وجود میں شامل ہوئےہو گئے ہم فناتیرے عشق کے قابل ہوئے
تو ہی اول، تو ہی آخربس تو ہی تومیری سانسوں کی ڈور تیری مٹھی میںبس تو ہی توفنا ہو کر بھی زندہ ہیں ہمتیرے عشق میں، بس تیرے عشق میںبس تو ہی تو...
ذات کا نور
ظلِّ عشق
Preview