رنگِ پریشانی
شایانِ سخن
غزل
About
ایک گہری اور جذباتی غزل جس میں ہارمونیم کی مدھر دھن اور طبلہ کی روایتی تال کا حسین امتزاج ہے۔ ووکلس پر مبنی اس مکس میں شاعری کے ہر لفظ کو مکمل نفاست اور سوز کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جو سننے والے کو ایک پرسکون اور اداس کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹ سے یہ ویرانہ مہکتا ہےکسی کے خواب کی خوشبو میرے کمرے میں بہکتا ہے
میں اب کس سے کہوں دل کا یہ قصہ، یہ پریشانیکہ ہر اک موڑ پر اب زندگی کا رنگ بدلتا ہے
وہ جو بچھڑا تو معلوم ہوا، ہم خاک نشیں لوگ ہیںمحبت کا یہ سودا اب کہاں ہم سے سنبھلتا ہے
ستارے توڑ کر لانا تو بس اک قصہ ماضی ہےیہاں تو ایک لمحہ بھی بڑی مشکل سے ڈھلتا ہے
میں اب کس سے کہوں دل کا یہ قصہ، یہ پریشانیکہ ہر اک موڑ پر اب زندگی کا رنگ بدلتا ہے
تمہارے ہجر کی راتیں، یہ آنکھوں میں نمی سی ہےکوئی شیشہ ہے دل میرا، جو ہر پل میں پگھلتا ہے
بکھر جانے کی عادت ہے، سنور جانے کی حسرت ہےیہ دل ہے یا کوئی شعلہ جو ہر جانب ہی جلتا ہے
رنگِ پریشانی
شایانِ سخن
Preview