Skip to content
رنگِ پریشانی
Duration2:53

رنگِ پریشانی

شایانِ سخن

غزل

About

ایک گہری اور جذباتی غزل جس میں ہارمونیم کی مدھر دھن اور طبلہ کی روایتی تال کا حسین امتزاج ہے۔ ووکلس پر مبنی اس مکس میں شاعری کے ہر لفظ کو مکمل نفاست اور سوز کے ساتھ پیش کیا گیا ہے، جو سننے والے کو ایک پرسکون اور اداس کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro
verse

تیرے آنے کی آہٹ سے یہ ویرانہ مہکتا ہےکسی کے خواب کی خوشبو میرے کمرے میں بہکتا ہے

refrain

میں اب کس سے کہوں دل کا یہ قصہ، یہ پریشانیکہ ہر اک موڑ پر اب زندگی کا رنگ بدلتا ہے

verse

وہ جو بچھڑا تو معلوم ہوا، ہم خاک نشیں لوگ ہیںمحبت کا یہ سودا اب کہاں ہم سے سنبھلتا ہے

instrumental-break
verse

ستارے توڑ کر لانا تو بس اک قصہ ماضی ہےیہاں تو ایک لمحہ بھی بڑی مشکل سے ڈھلتا ہے

refrain

میں اب کس سے کہوں دل کا یہ قصہ، یہ پریشانیکہ ہر اک موڑ پر اب زندگی کا رنگ بدلتا ہے

verse

تمہارے ہجر کی راتیں، یہ آنکھوں میں نمی سی ہےکوئی شیشہ ہے دل میرا، جو ہر پل میں پگھلتا ہے

outro

بکھر جانے کی عادت ہے، سنور جانے کی حسرت ہےیہ دل ہے یا کوئی شعلہ جو ہر جانب ہی جلتا ہے

رنگِ پریشانی

شایانِ سخن

Preview