Skip to content
Duration3:42

نورِ تجلیٰ کا سفر

غلامِ مصطفیٰ

Naat

About

ایک روحانی نعت جو ہارمونیم کی پرسوز دھن اور طبلہ کی دھیمی تھاپ پر مبنی ہے۔ اس میں گلوکاری کا انداز انتہائی پرکشش اور جذباتی ہے جس میں صوتی اتار چڑھاؤ اور نغمگی کا خاص خیال رکھا گیا ہے۔

Lyrics

intro

ذکرِ نبی سے روشن، میرا ہر اک لمحہ ہےقلبِ حزیں میں ان کی، الفت کا اک سجدہ ہےوہ نورِ مجسم آئے، ظلمت مٹانے کے لیےان کی ہی چوکھٹ پر تو، میرا جینا مرنا ہے

verse

مدینہ یاد آتا ہے، دل بے چین رہتا ہےوہ گنبدِ خضریٰ کا، منظر یاد رہتا ہےخدا نے جن کو بخشا ہے، مقامِ قابِ قوسینانہی کے دم سے روشن، یہ جہاں کا سارا گہنا ہے

refrain

یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، تیری ہی تو تمنا ہےمیری روح کی پیاس، تیرے در کا ہی تو صدقہ ہےتیرے ذکر سے مہکے، میری سانسوں کی ہر خوشبوتو ہی تو مرشدِ کامل، تو ہی تو میری دنیا ہے

verse

وہ رحمت بن کے آئے، عالمِ انسانیت کے لیےوہ شمعِ ہدایت بنے، بھٹکے ہوئے کارواں کے لیےکوئی نہ پہنچا وہاں تک، جہاں ان کی نظر پہنچیوہ عرش کے مہمان، جن کا ہر وعدہ سچا ہے

refrain

یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، تیری ہی تو تمنا ہےمیری روح کی پیاس، تیرے در کا ہی تو صدقہ ہےتیرے ذکر سے مہکے، میری سانسوں کی ہر خوشبوتو ہی تو مرشدِ کامل، تو ہی تو میری دنیا ہے

verse

کبھی تو خواب میں آئے، میری آنکھوں کے تارےمیری بخشش کا ہو سامان، ان کے در کے اشارےمیں ادنیٰ سا غلام ہوں، ان کی پاک گلیوں کابس ان کے نام پر ہی، میرا ایمان قائم رہتا ہے

refrain

یا مصطفیٰ، یا مصطفیٰ، تیری ہی تو تمنا ہےمیری روح کی پیاس، تیرے در کا ہی تو صدقہ ہےتیرے ذکر سے مہکے، میری سانسوں کی ہر خوشبوتو ہی تو مرشدِ کامل، تو ہی تو میری دنیا ہے

outro

درود ان پر، سلام ان پر، جو باعثِ تخلیقِ جہاں ہیںمیری ہر دعا کا محور، بس وہی تو میری جان ہیںسکونِ قلب پایا ہے، ان کے نام کے ورد میںاب تو یہی زندگی کا، آخری ایک رستہ ہے

نورِ تجلیٰ کا سفر

غلامِ مصطفیٰ

Preview