Skip to content
Duration5:00

خاموشی کی زبانی

ستارِ سرگشتہ

Coke Studio Fusion

About

یہ گیت روایتی ستار اور رباب کی دھنوں کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گہرے سنتھ پیڈز کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ شاعری اور پر اثر صوتی پرفارمنس کا امتزاج ہے جو سامعین کو ایک روحانی سفر پر لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro
verse 1

مٹی کی خوشبو میں لپٹی ہوئی اک یاد پرانی ہےآنکھوں کے دریچوں میں قید کوئی ان کہی کہانی ہےوقت کی لہروں پہ بہتی یہ سانسیںتلاشِ ذات میں بھٹکتی یہ روحِ انسانی ہےپتھروں سے نکلتا ہے اک نرم سا نغمہیہ میرے اندر کی خاموشی، میری اپنی زبانی ہے

verse 2

کبھی جو بکھر جائیں ہم، تو خود کو جوڑ لیتے ہیںخوابوں کی دھند میں ہم راستے مروڑ لیتے ہیںوہ جو بچھڑ گیا، وہیں کہیں ٹھہرا ہےہم ہجر کی راتوں کو بھی محبت میں اوڑھ لیتے ہیںتیری طلب کا یہ سفر، لا انتہا سا لگتا ہےہم اپنی ہی ذات کے آئینے میں خود کو چھوڑ لیتے ہیں

pre-chorus

ستاروں کی چادر، یہ کائنات کا پھیلاؤمیری رگوں میں دوڑتا ہے تیرا ہی اک پڑاؤمیں تو بس ایک ذرہ ہوں، تیری تجلی کے سائے میںبجھتی ہوئی شمعوں کو پھر سے جلاؤ

chorus

یہ عشق ہے یا کوئی انتہا کا جنوںتیرے سوا اب مجھے کچھ بھی نہ ہو یاد کیوںمیں خاک ہوں، میں راکھ ہوں، میں تجھ میں گم ہوںمیری ہر سانس میں تیری ہی صدا کا سکوںتو ہی میرا آغاز، تو ہی میرا اختتامتیری دہلیز پہ ختم ہوا میرا ہر ایک نام

instrumental-solo
verse 3

شہر کی بھیڑ میں، میں تنہا کیوں کھڑا ہوںاپنے ہی وجود کے حصار میں جڑا ہوںکبھی کبھی لگتا ہے، میں کہیں اور ہوںکسی انجان منزل کی جانب بڑھا ہوںیہ جو سکوت ہے، یہ جو شور ہےمیں تو بس تیری رضا میں مڑا ہوں

bridge

کبھی نہ بجھنے والی پیاس ہے یہکبھی نہ ختم ہونے والا احساس ہے یہمیں نے خود کو کھو کر پایا ہے تجھےیہ زندگی نہیں، اک خاص لباس ہے یہ

chorus

یہ عشق ہے یا کوئی انتہا کا جنوںتیرے سوا اب مجھے کچھ بھی نہ ہو یاد کیوںمیں خاک ہوں، میں راکھ ہوں، میں تجھ میں گم ہوںمیری ہر سانس میں تیری ہی صدا کا سکوںتو ہی میرا آغاز، تو ہی میرا اختتامتیری دہلیز پہ ختم ہوا میرا ہر ایک نام

bridge

دور افق کے پار، کوئی روشنی پکارتی ہےمیری روح کو تیری یاد سنوارتی ہےجو کبھی نہ تھے، وہ رشتے بن رہے ہیںمیری خاموشی بھی اب تجھے پکارتی ہے

instrumental-solo
outro

آگہی کا یہ سفر، اب تھم سا گیا ہےتیرا عکس میرے دل میں جم سا گیا ہےخالی ہاتھ ہیں، مگر دل بھرا ہوا ہےتیری محبت کا یہ کرم، مجھ پہ ہوا ہےبس تیرا ہی نام، بس تیرا ہی ناممیرے ہر ایک لمحے کا، بس تو ہی مقام

خاموشی کی زبانی

ستارِ سرگشتہ

Preview

خاموشی کی زبانی by ستارِ سرگشتہ | EchoLoRA: Generate a Song with AI