خاموشی کی زبانی
ستارِ سرگشتہ
Coke Studio Fusion
About
یہ گیت روایتی ستار اور رباب کی دھنوں کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گہرے سنتھ پیڈز کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ شاعری اور پر اثر صوتی پرفارمنس کا امتزاج ہے جو سامعین کو ایک روحانی سفر پر لے جاتا ہے۔
Lyrics
مٹی کی خوشبو میں لپٹی ہوئی اک یاد پرانی ہےآنکھوں کے دریچوں میں قید کوئی ان کہی کہانی ہےوقت کی لہروں پہ بہتی یہ سانسیںتلاشِ ذات میں بھٹکتی یہ روحِ انسانی ہےپتھروں سے نکلتا ہے اک نرم سا نغمہیہ میرے اندر کی خاموشی، میری اپنی زبانی ہے
کبھی جو بکھر جائیں ہم، تو خود کو جوڑ لیتے ہیںخوابوں کی دھند میں ہم راستے مروڑ لیتے ہیںوہ جو بچھڑ گیا، وہیں کہیں ٹھہرا ہےہم ہجر کی راتوں کو بھی محبت میں اوڑھ لیتے ہیںتیری طلب کا یہ سفر، لا انتہا سا لگتا ہےہم اپنی ہی ذات کے آئینے میں خود کو چھوڑ لیتے ہیں
ستاروں کی چادر، یہ کائنات کا پھیلاؤمیری رگوں میں دوڑتا ہے تیرا ہی اک پڑاؤمیں تو بس ایک ذرہ ہوں، تیری تجلی کے سائے میںبجھتی ہوئی شمعوں کو پھر سے جلاؤ
یہ عشق ہے یا کوئی انتہا کا جنوںتیرے سوا اب مجھے کچھ بھی نہ ہو یاد کیوںمیں خاک ہوں، میں راکھ ہوں، میں تجھ میں گم ہوںمیری ہر سانس میں تیری ہی صدا کا سکوںتو ہی میرا آغاز، تو ہی میرا اختتامتیری دہلیز پہ ختم ہوا میرا ہر ایک نام
شہر کی بھیڑ میں، میں تنہا کیوں کھڑا ہوںاپنے ہی وجود کے حصار میں جڑا ہوںکبھی کبھی لگتا ہے، میں کہیں اور ہوںکسی انجان منزل کی جانب بڑھا ہوںیہ جو سکوت ہے، یہ جو شور ہےمیں تو بس تیری رضا میں مڑا ہوں
کبھی نہ بجھنے والی پیاس ہے یہکبھی نہ ختم ہونے والا احساس ہے یہمیں نے خود کو کھو کر پایا ہے تجھےیہ زندگی نہیں، اک خاص لباس ہے یہ
یہ عشق ہے یا کوئی انتہا کا جنوںتیرے سوا اب مجھے کچھ بھی نہ ہو یاد کیوںمیں خاک ہوں، میں راکھ ہوں، میں تجھ میں گم ہوںمیری ہر سانس میں تیری ہی صدا کا سکوںتو ہی میرا آغاز، تو ہی میرا اختتامتیری دہلیز پہ ختم ہوا میرا ہر ایک نام
دور افق کے پار، کوئی روشنی پکارتی ہےمیری روح کو تیری یاد سنوارتی ہےجو کبھی نہ تھے، وہ رشتے بن رہے ہیںمیری خاموشی بھی اب تجھے پکارتی ہے
آگہی کا یہ سفر، اب تھم سا گیا ہےتیرا عکس میرے دل میں جم سا گیا ہےخالی ہاتھ ہیں، مگر دل بھرا ہوا ہےتیری محبت کا یہ کرم، مجھ پہ ہوا ہےبس تیرا ہی نام، بس تیرا ہی ناممیرے ہر ایک لمحے کا، بس تو ہی مقام
خاموشی کی زبانی
ستارِ سرگشتہ
Preview