گماں ہی سہی
آہِ انتظار
غزل
About
یہ غزل ایک گہرے جذباتی تجربے پر مبنی ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کی روایتی تال کا حسین امتزاج ہے۔ آواز پر مرکوز مکسنگ کے ذریعے شاعری کے ہر لفظ کی نفاست اور درد کو نمایاں کیا گیا ہے، جو سامعین کو ایک پرسکون اور فکر انگیز ماحول میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے آنے کا کیا پتا اب بھی، دل میں اک درد سا چھپا اب بھیہم نے مانا کہ تو نہیں آئے گا، پھر بھی راہوں میں ہے دُعا اب بھی
تیرے ہونے کا اب گماں ہی سہی، تیری یادوں کا کارواں ہی سہیہم تو جی لیں گے اس حقیقت پر، تیرا چہرہ ہی آسماں ہی سہی
وہ جو باتیں تھیں خواب جیسی کچھ، وہ جو موسم تھے گلاب جیسے کچھاب تو آنکھوں میں دھندلا پن ہے، یاد آتے ہیں وہ عذاب جیسے کچھ
تیری خوشبو سے گھر کو مہکائیں، ہم تو تنہائی کو بھی سمجھائیںکون کہتا ہے تو بچھڑ گیا، ہم تو خود سے تجھے ملائیں گے
وقت کی قید سے نکل آئے، ہم تو تیری گلی میں ڈھل آئےکوئی رشتہ نہ تھا مگر پھر بھی، تیرے احساس میں ہی جل آئے
تیرے ہونے کا اب گماں ہی سہی، تیری یادوں کا کارواں ہی سہیہم تو جی لیں گے اس حقیقت پر، تیرا چہرہ ہی آسماں ہی سہی
اب تو سوچوں میں رات کٹتی ہے، دل کی دھڑکن بھی اب سمٹتی ہےتجھ سے دوری کا یہ سفر کیسا، ہر گھڑی اک کسک سی اٹھتی ہے
ہم نے لکھی تھی اک کہانی جو، تیری آنکھوں میں تھی چھپانی جووہ تو اب حرف حرف بکھری ہے، ہم نے مانی نہ کوئی مانی جو
کبھی فرصت ملے تو پلٹ آنا، اپنی یادوں کا بوجھ بھی لاناہم تو اب بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں، تو نے چھوڑا تھا مسکرانا
تیرے ہونے کا اب گماں ہی سہی، تیری یادوں کا کارواں ہی سہیہم تو جی لیں گے اس حقیقت پر، تیرا چہرہ ہی آسماں ہی سہی
آسماں ہی سہی، بس تیرا نام ہی سہیدل کا ہر زخم، تیرے کام ہی سہیاب تو بس، تیری یاد ہی سہی...
گماں ہی سہی
آہِ انتظار
Preview