Skip to content
گماں ہی سہی
Duration4:49

گماں ہی سہی

آہِ انتظار

غزل

About

یہ غزل ایک گہرے جذباتی تجربے پر مبنی ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کی روایتی تال کا حسین امتزاج ہے۔ آواز پر مرکوز مکسنگ کے ذریعے شاعری کے ہر لفظ کی نفاست اور درد کو نمایاں کیا گیا ہے، جو سامعین کو ایک پرسکون اور فکر انگیز ماحول میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro
verse

تیرے آنے کا کیا پتا اب بھی، دل میں اک درد سا چھپا اب بھیہم نے مانا کہ تو نہیں آئے گا، پھر بھی راہوں میں ہے دُعا اب بھی

refrain

تیرے ہونے کا اب گماں ہی سہی، تیری یادوں کا کارواں ہی سہیہم تو جی لیں گے اس حقیقت پر، تیرا چہرہ ہی آسماں ہی سہی

verse

وہ جو باتیں تھیں خواب جیسی کچھ، وہ جو موسم تھے گلاب جیسے کچھاب تو آنکھوں میں دھندلا پن ہے، یاد آتے ہیں وہ عذاب جیسے کچھ

verse

تیری خوشبو سے گھر کو مہکائیں، ہم تو تنہائی کو بھی سمجھائیںکون کہتا ہے تو بچھڑ گیا، ہم تو خود سے تجھے ملائیں گے

instrumental-break
verse

وقت کی قید سے نکل آئے، ہم تو تیری گلی میں ڈھل آئےکوئی رشتہ نہ تھا مگر پھر بھی، تیرے احساس میں ہی جل آئے

refrain

تیرے ہونے کا اب گماں ہی سہی، تیری یادوں کا کارواں ہی سہیہم تو جی لیں گے اس حقیقت پر، تیرا چہرہ ہی آسماں ہی سہی

verse

اب تو سوچوں میں رات کٹتی ہے، دل کی دھڑکن بھی اب سمٹتی ہےتجھ سے دوری کا یہ سفر کیسا، ہر گھڑی اک کسک سی اٹھتی ہے

verse

ہم نے لکھی تھی اک کہانی جو، تیری آنکھوں میں تھی چھپانی جووہ تو اب حرف حرف بکھری ہے، ہم نے مانی نہ کوئی مانی جو

instrumental-break
verse

کبھی فرصت ملے تو پلٹ آنا، اپنی یادوں کا بوجھ بھی لاناہم تو اب بھی وہیں کھڑے ہیں جہاں، تو نے چھوڑا تھا مسکرانا

refrain

تیرے ہونے کا اب گماں ہی سہی، تیری یادوں کا کارواں ہی سہیہم تو جی لیں گے اس حقیقت پر، تیرا چہرہ ہی آسماں ہی سہی

outro

آسماں ہی سہی، بس تیرا نام ہی سہیدل کا ہر زخم، تیرے کام ہی سہیاب تو بس، تیری یاد ہی سہی...

گماں ہی سہی

آہِ انتظار

Preview

گماں ہی سہی by آہِ انتظار | EchoLoRA: Generate a Song with AI