Skip to content
♪
Duration3:13

ذات کا سفر

روحانی طوفان

صوفی راک

About

ایک طاقتور صوفی راک ٹریک جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کی دھنوں کو جدید الیکٹرک گٹار کی ڈسٹورشن کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اس گانے میں جذباتی اور بلند آواز میں صوفیانہ کلام پیش کیا گیا ہے جو روحانی تڑپ اور وجدانی کیفیت پیدا کرتا ہے۔

Lyrics

intro

میں ہوں، تو ہے، اور یہ خالی راستہپھولوں میں ہے تیری خوشبو کا واسطہ

verse

تلاش میں تیری، میں در بدر پھرتا رہااپنی ہی ذات کے سائے میں مرتا رہادل کے دریچوں میں دستک ہوئی ہے آجخودی کا یہ بت، ٹوٹتا ہے اب سرِ رواج

pre-chorus

آگ لگی ہے سینے میں، اک عجیب سی پیاس ہےمنزل نہیں، تو خود ہی میرا پاس ہے

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیری روح کا ہر اک ذرہ تیرا مسکن ہےمیں مٹ جاؤں، تو ہی باقی رہے ہر سومیری ہستی کا یہ سفر، تجھ پہ ہی ہو بس تو

verse

نہ مسجد کی قید، نہ بت خانہ کا خوف رہاتیرے عشق میں، اب تو ہر بندھن سوک رہاقطرہ جو نکلا، دریا میں جا کے سما گیاجو تھا میں کل، وہ آج کہاں کھو گیا

pre-chorus

آگ لگی ہے سینے میں، اک عجیب سی پیاس ہےمنزل نہیں، تو خود ہی میرا پاس ہے

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیری روح کا ہر اک ذرہ تیرا مسکن ہےمیں مٹ جاؤں، تو ہی باقی رہے ہر سومیری ہستی کا یہ سفر، تجھ پہ ہی ہو بس تو

instrumental-solo
bridge

سرکشی کا یہ طوفان، اب تھمنے لگا ہےتیرے نور کا سایہ، مجھ میں چمکنے لگا ہےنہ میں رہا، نہ میری کوئی بات رہیبس تیری ذات کا، اک دائمی ساتھ رہی

chorus

تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیری روح کا ہر اک ذرہ تیرا مسکن ہےمیں مٹ جاؤں، تو ہی باقی رہے ہر سومیری ہستی کا یہ سفر، تجھ پہ ہی ہو بس تو

outro

بس تو ہی تو ہے...ہر سو تو ہی تو ہے...مٹ گیا میں، اب تو ہی تو ہے...تجھ میں گم، اب تو ہی تو ہے...

ذات کا سفر

روحانی طوفان

Preview