ذات کا سفر
روحانی طوفان
صوفی راک
About
ایک طاقتور صوفی راک ٹریک جس میں روایتی طبلہ اور ہارمونیم کی دھنوں کو جدید الیکٹرک گٹار کی ڈسٹورشن کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ اس گانے میں جذباتی اور بلند آواز میں صوفیانہ کلام پیش کیا گیا ہے جو روحانی تڑپ اور وجدانی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
Lyrics
میں ہوں، تو ہے، اور یہ خالی راستہپھولوں میں ہے تیری خوشبو کا واسطہ
تلاش میں تیری، میں در بدر پھرتا رہااپنی ہی ذات کے سائے میں مرتا رہادل کے دریچوں میں دستک ہوئی ہے آجخودی کا یہ بت، ٹوٹتا ہے اب سرِ رواج
آگ لگی ہے سینے میں، اک عجیب سی پیاس ہےمنزل نہیں، تو خود ہی میرا پاس ہے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیری روح کا ہر اک ذرہ تیرا مسکن ہےمیں مٹ جاؤں، تو ہی باقی رہے ہر سومیری ہستی کا یہ سفر، تجھ پہ ہی ہو بس تو
نہ مسجد کی قید، نہ بت خانہ کا خوف رہاتیرے عشق میں، اب تو ہر بندھن سوک رہاقطرہ جو نکلا، دریا میں جا کے سما گیاجو تھا میں کل، وہ آج کہاں کھو گیا
آگ لگی ہے سینے میں، اک عجیب سی پیاس ہےمنزل نہیں، تو خود ہی میرا پاس ہے
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیری روح کا ہر اک ذرہ تیرا مسکن ہےمیں مٹ جاؤں، تو ہی باقی رہے ہر سومیری ہستی کا یہ سفر، تجھ پہ ہی ہو بس تو
سرکشی کا یہ طوفان، اب تھمنے لگا ہےتیرے نور کا سایہ، مجھ میں چمکنے لگا ہےنہ میں رہا، نہ میری کوئی بات رہیبس تیری ذات کا، اک دائمی ساتھ رہی
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن ہےمیری روح کا ہر اک ذرہ تیرا مسکن ہےمیں مٹ جاؤں، تو ہی باقی رہے ہر سومیری ہستی کا یہ سفر، تجھ پہ ہی ہو بس تو
بس تو ہی تو ہے...ہر سو تو ہی تو ہے...مٹ گیا میں، اب تو ہی تو ہے...تجھ میں گم، اب تو ہی تو ہے...
ذات کا سفر
روحانی طوفان
Preview