Skip to content
Duration4:00

گلیوں کا شور

شہریارِ گلی

پاکستانی ہپ ہاپ

About

یہ ٹریک جدید ٹریپ بیٹس اور روایتی طبلے کی تھاپ کا ایک حسین امتزاج ہے، جس میں کراچی کی گلیوں کی حقیقت اور سماجی جدوجہد کو بیان کیا گیا ہے۔ بھاری 808 بیس لائنز اور گہری اردو شاعری اسے ایک طاقتور اور پرجوش تجربہ بناتی ہے۔

Lyrics

intro

گلیوں کی دھول میں لپٹا ہوا میرا خوابآنکھوں میں سوال، ہاتھوں میں وہی پرانا حسابسڑکوں کی تپش، اور یہ شہر کی خاموش چیخیںہم نے سیکھی ہیں بس لڑنا، اپنی ہی لکیروں سے

verse

سیمنٹ کے جنگل میں، ہم نے گھر بنائے ہیںتنگ گلیوں میں، اپنی پہچان چھپائے ہیںکبھی خالی جیب، کبھی سر پہ قرض کا بوجھپھر بھی سینہ تان کے، چلتے ہیں ہم روزیہاں ہر دیوار پہ، نام لکھا ہے بے بسی کامگر جذبہ ہے جوان، جیسے رنگ ہو کسی خوشی کالوگ کہتے ہیں کہ وقت بدلتا ہے یہاںپر ہم نے دیکھا ہے، بس بدلتے ہوئے چہروں کا کارواںمیں اپنی کہانی، خود اپنی زبان میں لکھتا ہوںسچ کی آگ میں، ہر لفظ کو میں پگھلاتا ہوں

chorus

یہ میرا شہر، یہ میری زمین، یہ میرا شور ہےاپنی ہمت سے بنائی، یہ اپنی ہی ایک ڈور ہےکون کہتا ہے کہ ہم ہار مان جائیں گے؟گر کے سنبھلنا، ہم نے اسی مٹی سے سیکھا ہےیہ میری کہانی، یہ میرا سفر، یہ میرا نور ہے

verse

دھوئیں میں کھوئے ہوئے، یہ خوابوں کے مینارہر موڑ پہ بیٹھا ہے، کوئی نہ کوئی شکارسیاست کی شطرنج میں، مہرے ہم ہی تو ہیںکبھی حق کے لیے لڑتے، کبھی خود میں ہی سوئے ہیںمیری زبان میں تیزی، میرے لہجے میں ہے وقارہم نے نہیں سیکھا، کسی کے سامنے جھکنا یاریہ کنکریٹ کی چھت، یہ آسمان کا نیلا پنہماری محنت سے روشن، یہ شہر کا ہر ایک آنگنبھاگتے ہیں پیچھے، ہم اپنی ہی منزل کےکون روکے گا ہمیں، جب حوصلے ہوں پہاڑ کے

bridge

اندھیری راتوں میں، جگنو بن کے چمکنا ہےٹوٹ کر بھی، دوبارہ خود کو بننا ہےکوئی راستہ نہ دے تو، خود راستہ بناتے ہیںہم وہ ہیں جو ہار کو بھی، جیت میں بدلتے ہیںیہ مٹی پکارتی ہے، ہم اس کا ہی تو حصہ ہیںکل کی فکر نہیں، آج ہم اپنی ہی دنیا کے بادشاہ ہیں

chorus

یہ میرا شہر، یہ میری زمین، یہ میرا شور ہےاپنی ہمت سے بنائی، یہ اپنی ہی ایک ڈور ہےکون کہتا ہے کہ ہم ہار مان جائیں گے؟گر کے سنبھلنا، ہم نے اسی مٹی سے سیکھا ہےیہ میری کہانی، یہ میرا سفر، یہ میرا نور ہے

verse

پرانی یادوں کا بوجھ، دل پہ نہیں رکھتےہم تو بس آنے والے کل کی، امید رکھتے ہیںتیز ہواؤں میں، اپنی آواز بلند کرتے ہیںسچ کی راہ پہ، ہم ہر دم چلتے رہتے ہیںنہ کوئی خوف، نہ کوئی لالچ، نہ کوئی غروربس ایک جستجو ہے، کہ پہنچ جائیں ہم دورمیری پہچان، میری زبان، میرا یہی فخر ہےآنے والا وقت، ہمارا ہی تو ایک ذکر ہے

outro

یہ شہر بولتا ہے، جب ہم بولتے ہیںیہ گلیاں گنگناتی ہیں، جب ہم خواب تولتے ہیںرکنا نہیں، تھکنا نہیں، بس چلتے جانا ہےاپنی پہچان کو، اس دنیا میں منوانا ہےیہ میری کہانی ہے...بس میری ہی کہانی ہے...

گلیوں کا شور

شہریارِ گلی

Preview