حق کا ترانہ
سیاہ طوفان
پاکستانی راک
About
یہ گیت پاکستانی راک کی روایتی روح اور جدید الیکٹرک گٹار کے امتزاج سے تیار کیا گیا ہے۔ اس میں طبلے کی تھاپ اور بھاری راک بیٹس کا ایک ایسا سنگم ہے جو سماجی بیداری اور حق کے حصول کی جدوجہد کو اجاگر کرتا ہے۔
Lyrics
گلیوں کی خاک، پیروں میں زنجیریںخوابوں کی راکھ، بکھری ہوئی تقدیریںکب تک چھپائیں گے سچ کا یہ دامنبدلتے موسم، بدلتی ہیں تصویریں
درودیوار سے لپٹی ہوئی ہے خاموشیہر اک چہرے پہ لکھی ہوئی ہے مدہوشیسوال آنکھوں میں، لبوں پہ تالے ہیںکون سنے گا یہ ٹوٹتی ہوئی سرگوشی
اندھیروں کا یہ سفر، کب ختم ہوگا؟حق کا یہ بول، کب بلند ہوگا؟سیہ راتوں کے سینے میں پلتا ہے طوفاناب کے جو اٹھے گا، تو سب خاک ہوگا
اٹھو کہ وقت کا پہیہ اب گھومنے والا ہےیہ ظلم کا سورج اب ڈوبنے والا ہےہم ہیں وہ آگ جو کبھی بجھ نہ پائے گیحق کا ترانہ اب ہر گھر میں گونجنے والا ہے
کتابوں میں لکھا تھا جو، وہ کہاں ہے؟انصاف کا ترازو، وہ کہاں ہے؟بھوکے پیٹ، خالی ہاتھ، سر جھکائےوہ جو کہتے تھے ہم کو، وہ کہاں ہے؟
اندھیروں کا یہ سفر، کب ختم ہوگا؟حق کا یہ بول، کب بلند ہوگا؟سیہ راتوں کے سینے میں پلتا ہے طوفاناب کے جو اٹھے گا، تو سب خاک ہوگا
اٹھو کہ وقت کا پہیہ اب گھومنے والا ہےیہ ظلم کا سورج اب ڈوبنے والا ہےہم ہیں وہ آگ جو کبھی بجھ نہ پائے گیحق کا ترانہ اب ہر گھر میں گونجنے والا ہے
دیواروں کو گرا دو، زنجیریں توڑ دوپرانی رسموں کے سب بندھن چھوڑ دوہمیں تو جینا ہے آزاد فضاؤں میںاپنے لہو سے نئی راہوں کو موڑ دو
دھوپ میں چلنا، سایہ نہ پانااپنی ہی بستی میں اجنبی کہلاناپرندوں کی طرح اڑنے کی حسرت ہےپنجرے میں رہ کر، اب اور نہ مر جانا
اٹھو کہ وقت کا پہیہ اب گھومنے والا ہےیہ ظلم کا سورج اب ڈوبنے والا ہےہم ہیں وہ آگ جو کبھی بجھ نہ پائے گیحق کا ترانہ اب ہر گھر میں گونجنے والا ہے
گونجنے والا ہےاب وقت بدلنے والا ہےسچ بولنے والا ہےاٹھو!
حق کا ترانہ
سیاہ طوفان
Preview