سفرِ عاجزی
عاجز آواز
حمد
About
ایک روایتی حمد جس میں ہارمونیم کی پرسوز دھن اور طبلہ کی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس گیت کی پروڈکشن میں آواز کو نمایاں رکھا گیا ہے تاکہ روحانی اور پرسکون ماحول تخلیق کیا جا سکے۔
Lyrics
تیرے نام سے شروع ہو ہر ایک سانس کا سفرتیری ذات ہے ازل سے، تو ہی ہے سحرتیری حمد میں جھکے ہیں یہ سر، میری عاجزی کا تو ہے خبر
ذرے ذرے میں تیری قدرت کا ہے نشانتو نے ہی بخشی ہے یہ روح، یہ جسم، یہ جانتیری رحمتوں کا سایہ ہے ہر ایک موڑ پرتو ہی سنبھالتا ہے مجھے، جب میں ہوں پریشان
اے مالکِ کل، اے خالقِ بے مثالتیرے در کے سوا کہاں مانگوں میں کوئی سوالتیری محبت نے بخشا ہے مجھ کو یہ مقامتیری دہلیز ہی ہے میرا اوڑھنا اور بچھونا، یہی ہے میرا حال
تیرے کرم کی بارشیں، میری پیاسی روح کو سیراب کریںتیرے ذکر سے ہی میرے دل کے سب زخم بھریںمیں تو کچھ بھی نہیں، بس تیرا ایک عاجز بندہ ہوںتیرے نور سے ہی میری کائنات میں رنگ بھریں
اے مالکِ کل، اے خالقِ بے مثالتیرے در کے سوا کہاں مانگوں میں کوئی سوالتیری محبت نے بخشا ہے مجھ کو یہ مقامتیری دہلیز ہی ہے میرا اوڑھنا اور بچھونا، یہی ہے میرا حال
تیری حمد میں ہی میری بقا ہےتیرا قرب ہی میری انتہا ہےبس تیرا ہی ساتھ رہے، یہی میری دعا ہےیہی میری دعا ہے...
سفرِ عاجزی
عاجز آواز
Preview