Skip to content
Duration2:40

سفرِ عاجزی

عاجز آواز

حمد

About

ایک روایتی حمد جس میں ہارمونیم کی پرسوز دھن اور طبلہ کی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس گیت کی پروڈکشن میں آواز کو نمایاں رکھا گیا ہے تاکہ روحانی اور پرسکون ماحول تخلیق کیا جا سکے۔

Lyrics

intro

تیرے نام سے شروع ہو ہر ایک سانس کا سفرتیری ذات ہے ازل سے، تو ہی ہے سحرتیری حمد میں جھکے ہیں یہ سر، میری عاجزی کا تو ہے خبر

verse

ذرے ذرے میں تیری قدرت کا ہے نشانتو نے ہی بخشی ہے یہ روح، یہ جسم، یہ جانتیری رحمتوں کا سایہ ہے ہر ایک موڑ پرتو ہی سنبھالتا ہے مجھے، جب میں ہوں پریشان

refrain

اے مالکِ کل، اے خالقِ بے مثالتیرے در کے سوا کہاں مانگوں میں کوئی سوالتیری محبت نے بخشا ہے مجھ کو یہ مقامتیری دہلیز ہی ہے میرا اوڑھنا اور بچھونا، یہی ہے میرا حال

verse

تیرے کرم کی بارشیں، میری پیاسی روح کو سیراب کریںتیرے ذکر سے ہی میرے دل کے سب زخم بھریںمیں تو کچھ بھی نہیں، بس تیرا ایک عاجز بندہ ہوںتیرے نور سے ہی میری کائنات میں رنگ بھریں

refrain

اے مالکِ کل، اے خالقِ بے مثالتیرے در کے سوا کہاں مانگوں میں کوئی سوالتیری محبت نے بخشا ہے مجھ کو یہ مقامتیری دہلیز ہی ہے میرا اوڑھنا اور بچھونا، یہی ہے میرا حال

outro

تیری حمد میں ہی میری بقا ہےتیرا قرب ہی میری انتہا ہےبس تیرا ہی ساتھ رہے، یہی میری دعا ہےیہی میری دعا ہے...

سفرِ عاجزی

عاجز آواز

Preview

سفرِ عاجزی by عاجز آواز | EchoLoRA: Generate a Song with AI