راکھ اور سچ
بغاوتِ نو
پاکستانی راک
About
ایک طاقتور پاکستانی راک ٹریک جو روایتی طبلے کی تھاپ اور الیکٹرک گٹار کے بھاری ڈسٹورشن کو ملا کر ایک منفرد سماجی و سیاسی بیانیہ پیش کرتا ہے۔ اس گانے میں مشرقی راگوں کی جھلک اور گٹار سولوز کا امتزاج سامعین کو ایک جذباتی اور پرجوش تجربہ فراہم کرتا ہے۔
Lyrics
راکھ کے ڈھیر سے اٹھتی ہے یہ کیسی آوازبند کمروں میں قید ہے کیوں سارا پروازدیواروں پہ لکھی ہوئی ہے میری کہانیصدیوں سے ہم ڈھونڈ رہے ہیں اپنی نشانیکالی راتوں کے سائے میں جینا کیسااپنے ہی شہر میں ہم کو پرایا جیسا
آنکھوں میں خوابوں کے ٹکڑے چبتے ہیںسچ بولیں تو اب ہم کتنے کھٹکتے ہیں
یہ آگ ہے، یہ شور ہے، یہ میرا خون ہےخود سے لڑنا ہی اب میرا سکون ہےخاموشی کے لبوں کو ہم نے سی لیاان اندھیروں کو بھی ہم نے جی لیا
جلتے ہوئے سورج کو مٹھی میں تھام کرنکلے ہیں ہم آج پھر اپنا ہی نام لے کرسڑکوں پہ بکھری ہیں امیدیں ادھوریپوری نہ ہو سکی جو تھی ایک مجبوریہاتھوں میں پتھر نہیں، سچ کا چراغ ہےجاگ اٹھا ہے وہ جو کل تک ایک داغ ہے
آنکھوں میں خوابوں کے ٹکڑے چبتے ہیںسچ بولیں تو اب ہم کتنے کھٹکتے ہیں
یہ آگ ہے، یہ شور ہے، یہ میرا خون ہےخود سے لڑنا ہی اب میرا سکون ہےخاموشی کے لبوں کو ہم نے سی لیاان اندھیروں کو بھی ہم نے جی لیا
زنجیریں توڑ کر اب راستہ بنانا ہےاس ہجوم میں اپنا وجود دکھانا ہےڈر کے پہرے اب ہم کو ڈرا نہیں سکتےہم وہ ہیں جو کبھی سر جھکا نہیں سکتے
یہ آگ ہے، یہ شور ہے، یہ میرا خون ہےخود سے لڑنا ہی اب میرا سکون ہےخاموشی کے لبوں کو ہم نے سی لیاان اندھیروں کو بھی ہم نے جی لیا
جی لیا... ہم نے جی لیا...سچ کہہ دیا... اب سب کہہ دیا...یہ آگ ہے...یہ شور ہے...
راکھ اور سچ
بغاوتِ نو
Preview