Skip to content
♪
Duration3:45

راکھ اور سچ

بغاوتِ نو

پاکستانی راک

About

ایک طاقتور پاکستانی راک ٹریک جو روایتی طبلے کی تھاپ اور الیکٹرک گٹار کے بھاری ڈسٹورشن کو ملا کر ایک منفرد سماجی و سیاسی بیانیہ پیش کرتا ہے۔ اس گانے میں مشرقی راگوں کی جھلک اور گٹار سولوز کا امتزاج سامعین کو ایک جذباتی اور پرجوش تجربہ فراہم کرتا ہے۔

Lyrics

intro
verse 1

راکھ کے ڈھیر سے اٹھتی ہے یہ کیسی آوازبند کمروں میں قید ہے کیوں سارا پروازدیواروں پہ لکھی ہوئی ہے میری کہانیصدیوں سے ہم ڈھونڈ رہے ہیں اپنی نشانیکالی راتوں کے سائے میں جینا کیسااپنے ہی شہر میں ہم کو پرایا جیسا

pre-chorus

آنکھوں میں خوابوں کے ٹکڑے چبتے ہیںسچ بولیں تو اب ہم کتنے کھٹکتے ہیں

chorus

یہ آگ ہے، یہ شور ہے، یہ میرا خون ہےخود سے لڑنا ہی اب میرا سکون ہےخاموشی کے لبوں کو ہم نے سی لیاان اندھیروں کو بھی ہم نے جی لیا

verse 2

جلتے ہوئے سورج کو مٹھی میں تھام کرنکلے ہیں ہم آج پھر اپنا ہی نام لے کرسڑکوں پہ بکھری ہیں امیدیں ادھوریپوری نہ ہو سکی جو تھی ایک مجبوریہاتھوں میں پتھر نہیں، سچ کا چراغ ہےجاگ اٹھا ہے وہ جو کل تک ایک داغ ہے

pre-chorus

آنکھوں میں خوابوں کے ٹکڑے چبتے ہیںسچ بولیں تو اب ہم کتنے کھٹکتے ہیں

chorus

یہ آگ ہے، یہ شور ہے، یہ میرا خون ہےخود سے لڑنا ہی اب میرا سکون ہےخاموشی کے لبوں کو ہم نے سی لیاان اندھیروں کو بھی ہم نے جی لیا

bridge

زنجیریں توڑ کر اب راستہ بنانا ہےاس ہجوم میں اپنا وجود دکھانا ہےڈر کے پہرے اب ہم کو ڈرا نہیں سکتےہم وہ ہیں جو کبھی سر جھکا نہیں سکتے

tabla-solo
guitar-solo
chorus

یہ آگ ہے، یہ شور ہے، یہ میرا خون ہےخود سے لڑنا ہی اب میرا سکون ہےخاموشی کے لبوں کو ہم نے سی لیاان اندھیروں کو بھی ہم نے جی لیا

outro

جی لیا... ہم نے جی لیا...سچ کہہ دیا... اب سب کہہ دیا...یہ آگ ہے...یہ شور ہے...

راکھ اور سچ

بغاوتِ نو

Preview