Skip to content
عشقِ حقیقی کی پکار
Duration2:44

عشقِ حقیقی کی پکار

استاد شمس الدین قوال

قوالی

About

یہ قوالی ایک جذباتی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گہری تان اور طبلے کی پیچیدہ تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ گیت میں کال اینڈ ریسپانس آوازیں، تالیوں کی تھاپ اور روحانی وجد کا سماں ہے جو سامعین کو ایک پراسرار اور عارفانہ کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

مستی میں ڈوبے ہوئے، ہم تیرے در کے سوالیدل کی لگی ہے یہ کیسی، بجھتی نہیں ہے یہ حالی

verse

کب سے کھڑے ہیں ہم تیری دہلیز کے پارآنکھوں میں اشکوں کا ہے اک سمندر تیارخود سے ہوئے ہم جدا، تجھ میں ہوئے ہیں گممٹ گئی دوری، مٹ گئے سب ہی غم

chorus

تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے، اے میرے دل کے مکیںتجھ بن ویران ہے یہ جہاں، تجھ بن کچھ بھی نہیںعشقِ حقیقی کی راہوں میں، ہم نے قدم رکھ دیااپنا وجود تیری چاہت میں، سارا ہی مٹا دیا

improvisation

یا رب، تیری تجلی کا ہے یہ نورِ خاصہم ہیں تیرے در کے محتاج، تو ہی ہے پاسکبھی ہنس کر، کبھی رو کر، پکارا ہے تجھےاپنی ہی ذات سے ہم نے سنوارا ہے تجھے

crescendo

وجد میں ہے روح، اور سرشار ہے یہ حواستیرے ہی دم سے ہے، میری سانسوں کا احساسآگ لگی ہے، بجھنے نہ دینا یہ جوت کبھیتیرے سوا اب نہ مانگیں گے، ہم کوئی خوشی

outro

مٹ گئے ہم، مٹ گئے ہم، تیری یاد میںکھو گئے ہم، کھو گئے ہم، تیری فریاد میںتو ہی اول، تو ہی آخر، تیرا ہی نام ہےمیری بندگی بس تیرے ہی نام ہے

عشقِ حقیقی کی پکار

استاد شمس الدین قوال

Preview

عشقِ حقیقی کی پکار by استاد شمس الدین قوال | EchoLoRA: Generate a Song with AI