عشقِ حقیقی کی پکار
استاد شمس الدین قوال
قوالی
About
یہ قوالی ایک جذباتی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گہری تان اور طبلے کی پیچیدہ تالوں کا حسین امتزاج ہے۔ گیت میں کال اینڈ ریسپانس آوازیں، تالیوں کی تھاپ اور روحانی وجد کا سماں ہے جو سامعین کو ایک پراسرار اور عارفانہ کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
مستی میں ڈوبے ہوئے، ہم تیرے در کے سوالیدل کی لگی ہے یہ کیسی، بجھتی نہیں ہے یہ حالی
کب سے کھڑے ہیں ہم تیری دہلیز کے پارآنکھوں میں اشکوں کا ہے اک سمندر تیارخود سے ہوئے ہم جدا، تجھ میں ہوئے ہیں گممٹ گئی دوری، مٹ گئے سب ہی غم
تو ہی تو ہے، تو ہی تو ہے، اے میرے دل کے مکیںتجھ بن ویران ہے یہ جہاں، تجھ بن کچھ بھی نہیںعشقِ حقیقی کی راہوں میں، ہم نے قدم رکھ دیااپنا وجود تیری چاہت میں، سارا ہی مٹا دیا
یا رب، تیری تجلی کا ہے یہ نورِ خاصہم ہیں تیرے در کے محتاج، تو ہی ہے پاسکبھی ہنس کر، کبھی رو کر، پکارا ہے تجھےاپنی ہی ذات سے ہم نے سنوارا ہے تجھے
وجد میں ہے روح، اور سرشار ہے یہ حواستیرے ہی دم سے ہے، میری سانسوں کا احساسآگ لگی ہے، بجھنے نہ دینا یہ جوت کبھیتیرے سوا اب نہ مانگیں گے، ہم کوئی خوشی
مٹ گئے ہم، مٹ گئے ہم، تیری یاد میںکھو گئے ہم، کھو گئے ہم، تیری فریاد میںتو ہی اول، تو ہی آخر، تیرا ہی نام ہےمیری بندگی بس تیرے ہی نام ہے
عشقِ حقیقی کی پکار
استاد شمس الدین قوال
Preview