تنہائی کی دستک
آریان شہزاد
پاکستانی پاپ
About
یہ گانا روایتی طبلے کی تھاپ اور جدید الیکٹرانک سنتھسائزر کا ایک بہترین امتزاج ہے۔ اس میں جذباتی آواز کے ساتھ ایک دلکش پاپ دھن شامل ہے جو سامعین کو ماضی کی یادوں میں لے جاتی ہے۔
Lyrics
تنہائیوں کے شہر میں، اک خواب سا بکھرا ہواسڑکوں پہ چلتی روشنی، اب دل میرا ہے کھو گیا
گلیوں کی ان ویرانیوں میں تیری خوشبو ڈھونڈتےہم تھک گئے ہیں، خود کو تنہا، سڑکوں پہ اب ڈھونڈتےتیری ہنسی کا وہ عکس، دیواروں پہ اب بھی ہےتیری باتوں کا وہ ذائقہ، یادوں کے اس لب پہ ہے
موسم بدلتے جا رہے، ہم وہیں پہ کھڑے ہیںوقت کی اس دوڑ میں، کچھ فیصلے جو اڑے ہیں
تو بکھر گیا ہے جیسے، ہواؤں میں کوئی گیتہم ڈھونڈتے رہے تجھے، اب تک وہی پریتیہ دل کا شور ہے یا تیری یادوں کی دستکتیرے بنا جی رہے ہم، اب تو ہے بس اک کسک
کبھی جو ساتھ چلتے تھے، ان موڑوں پہ اب اکیلےاپنی ہی کہانیوں کے، ہم خود ہی بنے ہیں ریلےرات کا یہ سناٹا، اب باتیں ہم سے کرتا ہےتیرا نام لے کے ہر لمحہ، دل میرا یہ ڈرتا ہے
موسم بدلتے جا رہے، ہم وہیں پہ کھڑے ہیںوقت کی اس دوڑ میں، کچھ فیصلے جو اڑے ہیں
تو بکھر گیا ہے جیسے، ہواؤں میں کوئی گیتہم ڈھونڈتے رہے تجھے، اب تک وہی پریتیہ دل کا شور ہے یا تیری یادوں کی دستکتیرے بنا جی رہے ہم، اب تو ہے بس اک کسک
کبھی تو لوٹ کے آنا، ان گلیوں کی ویرانی میںتیرے بنا کچھ نہیں، اس زندگی کی کہانی میںسب رنگ پھیکے لگتے ہیں، تیرے جانے کے بعدبس ایک تیری ہی صورت، رہ گئی اب یاد
تو بکھر گیا ہے جیسے، ہواؤں میں کوئی گیتہم ڈھونڈتے رہے تجھے، اب تک وہی پریتیہ دل کا شور ہے یا تیری یادوں کی دستکتیرے بنا جی رہے ہم، اب تو ہے بس اک کسک
بس اک کسک...تیرے بنا...خواب سا بکھرا ہوا...تنہائی...
تنہائی کی دستک
آریان شہزاد
Preview