ذات کا محور
نورِ قلندر
Sufi
About
ایک روحانی صوفیانہ کلام جس میں ہارمونیم کے مسلسل ڈرون اور طبلہ کے پیچیدہ تالوں کا امتزاج ہے۔ یہ ٹریک ایک پرجوش اور وجدانی کیفیت پیدا کرتا ہے، جس میں صوفیانہ شاعری کے ذریعے فنا اور بقا کے سفر کو بیان کیا گیا ہے۔
Lyrics
میں کون ہوں، یہ مجھ کو خبر ہی نہیںتیری طلب میں، کوئی بھی ڈگر ہی نہیںخودی کی حد سے، نکل کے آیا ہوںیہاں تو اپنا، کوئی بھی گھر ہی نہیں
نگاہِ شوق میں، بس ایک جلوہ ہےیہ کائنات، تیرے دم سے ہی تو ہےمیں خاکِ راہ، تو آفتابِ ازلمیری انا کا، یہ سارا بوجھ تو ہےمٹا دے مجھ کو، کہ میں خود کو پا سکوںتیرے وصال کی، میں آگ جلا سکوں
ہو، اللہ ہو، حق، اللہ ہوتیرے ہی دم سے، یہ سانس ہے رواںہو، اللہ ہو، حق، اللہ ہوتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخری جہاں
مے کدہ ہے، یا کہ تیرا در ہے یہجس طرف دیکھوں، تیرا ہی منظر ہے یہمیں تو بس ایک، بے نام سا ذرہ ہوںمیری ہستی کا، بس ایک ہی محور ہے یہمجھے اپنے رنگ میں، تو رنگ لے اے دوستکہ تیرے سوا، نہ کوئی اب در ہے یہ
میں ٹوٹ کر، اب خود سے بکھر گیا ہوںمیں تجھ میں ہی، اب تو اتر گیا ہوںنہ حد رہی، نہ کوئی اب فاصلہ ہےمیں اپنی ذات سے، اب گزر گیا ہوںخدا کی ذات میں، فنا ہو گیا ہوںمیں تیرے عشق میں، ادا ہو گیا ہوں
خاموش ہوں، کہ اب کچھ کہنا نہیںتیرے سوا، اب کہیں رہنا نہیںبس تو ہی تو ہے، ہر سانس میں میریاس سے آگے، اب کچھ سہنا نہیںاللہ ہو، اللہ ہو، حق، اللہ ہو
ذات کا محور
نورِ قلندر
Preview