Skip to content
Duration3:40

ذات کا محور

نورِ قلندر

Sufi

About

ایک روحانی صوفیانہ کلام جس میں ہارمونیم کے مسلسل ڈرون اور طبلہ کے پیچیدہ تالوں کا امتزاج ہے۔ یہ ٹریک ایک پرجوش اور وجدانی کیفیت پیدا کرتا ہے، جس میں صوفیانہ شاعری کے ذریعے فنا اور بقا کے سفر کو بیان کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

میں کون ہوں، یہ مجھ کو خبر ہی نہیںتیری طلب میں، کوئی بھی ڈگر ہی نہیںخودی کی حد سے، نکل کے آیا ہوںیہاں تو اپنا، کوئی بھی گھر ہی نہیں

verse

نگاہِ شوق میں، بس ایک جلوہ ہےیہ کائنات، تیرے دم سے ہی تو ہےمیں خاکِ راہ، تو آفتابِ ازلمیری انا کا، یہ سارا بوجھ تو ہےمٹا دے مجھ کو، کہ میں خود کو پا سکوںتیرے وصال کی، میں آگ جلا سکوں

vocal-improvisation

ہو، اللہ ہو، حق، اللہ ہوتیرے ہی دم سے، یہ سانس ہے رواںہو، اللہ ہو، حق، اللہ ہوتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخری جہاں

chorus

مے کدہ ہے، یا کہ تیرا در ہے یہجس طرف دیکھوں، تیرا ہی منظر ہے یہمیں تو بس ایک، بے نام سا ذرہ ہوںمیری ہستی کا، بس ایک ہی محور ہے یہمجھے اپنے رنگ میں، تو رنگ لے اے دوستکہ تیرے سوا، نہ کوئی اب در ہے یہ

climax

میں ٹوٹ کر، اب خود سے بکھر گیا ہوںمیں تجھ میں ہی، اب تو اتر گیا ہوںنہ حد رہی، نہ کوئی اب فاصلہ ہےمیں اپنی ذات سے، اب گزر گیا ہوںخدا کی ذات میں، فنا ہو گیا ہوںمیں تیرے عشق میں، ادا ہو گیا ہوں

outro

خاموش ہوں، کہ اب کچھ کہنا نہیںتیرے سوا، اب کہیں رہنا نہیںبس تو ہی تو ہے، ہر سانس میں میریاس سے آگے، اب کچھ سہنا نہیںاللہ ہو، اللہ ہو، حق، اللہ ہو

ذات کا محور

نورِ قلندر

Preview

ذات کا محور by نورِ قلندر | EchoLoRA: Generate a Song with AI