دل کی بستی تیرا بسیرا
استاد رحیم فقیر قوال
قوالی
About
ایک روایتی قوالی جو ہارمونیم کی گونج اور ڈھولک کی تال پر مبنی ہے۔ اس میں جذباتی کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی تھاپ شامل ہے جو روحانی وجد کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تو ہی میری پناہ ہےتیری یادوں کی حدت، میری واحد گواہ ہےدل کی بستی میں اب صرف تیرا ہی بسیراتجھ سے روشن یہ عالم، تجھ سے ہی ہر سویرا
میں تو بھٹکا ہوا اک مسافر رہا ہوںتیری دہلیز پر آ کے آخر رکا ہوںمیری ہستی کے ذرے پکاریں تجھے ہیمیں تو خود کو بھی اب بھول کر پا گیا ہوںکچھ نہ مانگا ہے تجھ سے، نہ کچھ اور چاہاتیرے جلووں کی رم جھم میں خود کو ڈھالا
مستی میں ڈوبے، یہ دل کے فسانےتیرے عشق میں ہم نے سب کچھ بھلائےتو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی حقیقتتیرے نام پر اب تو جیون لٹائے
ہو، حقِ موجود، تیرا ہی تو نور ہےہو، دل کا ہر گوشہ، تیرے ہی حضور ہےتیری رحمت کا سایہ، سر پہ سلامتتیری الفت کا دریا، دل میں رواں ہے
سجدوں کی لذت، تیرے در کی خاک میںگم ہو گیا ہوں، میں تیری ہی پاک ذات میںکوئی فاصلہ اب نہ ہم میں رہے گاتو ہی تو ہے اب، ہر اک سانس میں کہے گاتیری نسبت ہی ہے، میری پہچان اب توتیرے ہی رنگ میں، رنگ گیا جہان اب تو
تیرے در پر ہی اب، میری شام ہوگیتیری یادوں میں ہی، صبح کا نام ہوگیمٹا دے مجھے، اپنی چاہت کی حد میںمیں تجھ میں ہی کھو کر، تجھے پا رہا ہوںتجھ میں ہی کھو کر، تجھے پا رہا ہوںتجھ میں ہی کھو کر، تجھے پا رہا ہوں
دل کی بستی تیرا بسیرا
استاد رحیم فقیر قوال
Preview