Skip to content
♪
Duration3:27

دل کی بستی تیرا بسیرا

استاد رحیم فقیر قوال

قوالی

About

ایک روایتی قوالی جو ہارمونیم کی گونج اور ڈھولک کی تال پر مبنی ہے۔ اس میں جذباتی کال اینڈ ریسپانس اور تالیوں کی تھاپ شامل ہے جو روحانی وجد کی کیفیت پیدا کرتی ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کا گدا ہوں، تو ہی میری پناہ ہےتیری یادوں کی حدت، میری واحد گواہ ہےدل کی بستی میں اب صرف تیرا ہی بسیراتجھ سے روشن یہ عالم، تجھ سے ہی ہر سویرا

verse

میں تو بھٹکا ہوا اک مسافر رہا ہوںتیری دہلیز پر آ کے آخر رکا ہوںمیری ہستی کے ذرے پکاریں تجھے ہیمیں تو خود کو بھی اب بھول کر پا گیا ہوںکچھ نہ مانگا ہے تجھ سے، نہ کچھ اور چاہاتیرے جلووں کی رم جھم میں خود کو ڈھالا

chorus

مستی میں ڈوبے، یہ دل کے فسانےتیرے عشق میں ہم نے سب کچھ بھلائےتو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی حقیقتتیرے نام پر اب تو جیون لٹائے

rhythmic-break

ہو، حقِ موجود، تیرا ہی تو نور ہےہو، دل کا ہر گوشہ، تیرے ہی حضور ہےتیری رحمت کا سایہ، سر پہ سلامتتیری الفت کا دریا، دل میں رواں ہے

crescendo

سجدوں کی لذت، تیرے در کی خاک میںگم ہو گیا ہوں، میں تیری ہی پاک ذات میںکوئی فاصلہ اب نہ ہم میں رہے گاتو ہی تو ہے اب، ہر اک سانس میں کہے گاتیری نسبت ہی ہے، میری پہچان اب توتیرے ہی رنگ میں، رنگ گیا جہان اب تو

outro

تیرے در پر ہی اب، میری شام ہوگیتیری یادوں میں ہی، صبح کا نام ہوگیمٹا دے مجھے، اپنی چاہت کی حد میںمیں تجھ میں ہی کھو کر، تجھے پا رہا ہوںتجھ میں ہی کھو کر، تجھے پا رہا ہوںتجھ میں ہی کھو کر، تجھے پا رہا ہوں

دل کی بستی تیرا بسیرا

استاد رحیم فقیر قوال

Preview