نورِ کائنات
قاری محمد زبیر
نعت
About
ایک روحانی اور پرسکون نعت جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی روایتی تھاپ کا امتزاج ہے۔ اس میں گلوکار کی پیچیدہ اور جذباتی آواز (melismatic vocal phrasing) کو نمایاں کیا گیا ہے جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عقیدت کا اظہار کرتی ہے۔
Lyrics
تیری رحمتوں کا دریا، میرے دل کو چھو گیا ہےتیری یاد میں یہ عالم، سارا خواب ہو گیا ہےوہ جو نورِ کائنات ہیں، وہ جو فخرِ انبیاء ہیںان کی ایک ایک ادا پر، میرا دل فدا ہوا ہے
مدینے کی وہ گلیاں، اور ٹھنڈی ٹھنڈی ہوائیںجہاں جا کے ملتی ہیں، میری روح کو دعائیںوہ گنبدِ خضریٰ کا، حسین ایک نظارہمیری آنکھوں میں بسا ہے، وہی اک سہارامیں ادھورا تھا کبھی، اب مکمل ہو رہا ہوںتیری دہلیز پر آ کر، میں تو بکھر رہا ہوں
یا نبی، یا نبی، آپ کی عظمت کو سلامآپ کی سیرت کے روشن، ہر اک حرف کو سلامآپ ہی تو ہیں وہ ہستی، جس کے دم سے ہے بہارآپ ہی ہیں وہ محبت، جس سے ہے یہ سارا سنسار
وہ جو یتیموں کا سہارا، وہ جو غریبوں کے غمخواران کی شانِ کریمی، ہے زمانے میں آشکارکبھی صبر کا پیکر، کبھی عدل کی تصویران کے قدموں نے بدلی، اس جہاں کی تقدیرمیری پلکوں پہ جو شبنم، ہے تیرے عشق کی ہےمیری سانسوں میں جو خوشبو، وہ تیری ہی تو ہے
یا نبی، یا نبی، آپ کی عظمت کو سلامآپ کی سیرت کے روشن، ہر اک حرف کو سلامآپ ہی تو ہیں وہ ہستی، جس کے دم سے ہے بہارآپ ہی ہیں وہ محبت، جس سے ہے یہ سارا سنسار
کبھی سوچتا ہوں میں تو، کہاں میں کہاں وہ درمیری اوقات ہی کیا ہے، جو کروں میں ان کا ذکرمگر یہ کرم ان کا، کہ مجھے سنبھال رکھا ہےمیری ہر ایک خطا کو، پردے میں ڈال رکھا ہےمیں گنہگار ہوں لیکن، امید ان سے ہی ہےمیری بخشش کا وہی تو، اک واحد راستہ ہے
یا نبی، یا نبی، آپ کی عظمت کو سلامآپ کی سیرت کے روشن، ہر اک حرف کو سلامآپ ہی تو ہیں وہ ہستی، جس کے دم سے ہے بہارآپ ہی ہیں وہ محبت، جس سے ہے یہ سارا سنسار
وہ جو معراج کے راہی، وہ جو عرش کے مہمانان کی رفعت کا کیا کہنا، وہ ہیں رب کے محبوبِ جانمیں لکھوں بھی تو کیا لکھوں، میری بساط ہی کیا ہےمیری تحریر میں تو، بس ان کی ہی مدحت ہےیہ دل کی دھڑکنیں اب، نام ان کا ہی لیتی ہیںمیری روح کی پیاس، ان سے ہی بجھتی ہیں
یا نبی، یا نبی، آپ کی عظمت کو سلامآپ کی سیرت کے روشن، ہر اک حرف کو سلامآپ ہی تو ہیں وہ ہستی، جس کے دم سے ہے بہارآپ ہی ہیں وہ محبت، جس سے ہے یہ سارا سنسار
سلام اس پر کہ جس نے، اندھیروں کو مٹایاسلام اس پر کہ جس نے، ہمیں جینا سکھایایا نبی، یا نبی، یا نبی، یا نبیآپ ہی ہیں میری منزل، آپ ہی ہیں میری زندگیآپ ہی ہیں میری زندگی...
نورِ کائنات
قاری محمد زبیر
Preview