مستی کا ورد
در کا گدا
قوالی فیوژن
About
یہ قوالی فیوژن ٹریک روایتی ہارمونیم اور طبلے کی تھاپ کو جدید الیکٹرانک بیٹس اور گٹار کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام، جوشیلے تالیوں کے ردھم اور پر اثر صوتی اثرات کا استعمال کیا گیا ہے جو ایک روحانی اور پرجوش ماحول پیدا کرتے ہیں۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےمیری روح کی پیاس، بس تیری ہی صدا ہےمیں بھٹکتا رہا، اب تو راہ دکھا دےمیری کشتی کو ساحل کا پتہ تو بتا دے
میں تو ذرہ ہوں، تو ہے آفتابِ عالمتیرے نور سے روشن، یہ میرا ہر اک غمخودی کے بتوں کو میں نے خود ہی توڑاتیرے عشق میں اپنا سب کچھ ہے چھوڑانہ کوئی فاصلہ ہے، نہ کوئی اب دوریتیرے قرب کی تڑپ، میری ہے مجبوری
مستی میں ڈوبے، تیرے نام کا ورد کریںہم تو تیرے عشق میں، خود کو ہی گرد کریںمستی میں ڈوبے، تیرے نام کا ورد کریںہم تو تیرے عشق میں، خود کو ہی گرد کریںیا رب، یا رب، تیرا ہی دیدار ہومیری بستی میں، بس تیرا ہی پیار ہو
ہائے، ہائے، دید کا طالب ہوںمیں تو بس تیرا ہی راغب ہوںلا الہ، لا الہ، دل میں تیرا بسیراتیرے بغیر تو، جیسے اندھیرا ہی اندھیرادم مست، دم مست، ہر سانس میں تو ہےمیرے اندر کی کھوج، بس تو ہی تو ہے
حقیقت کی تلاش میں، میں کہاں کہاں پھروںتیرے جلووں کے سائے میں، اب تو میں جی مروںنہ کوئی اونچ نیچ، نہ کوئی یہاں فرق ہےتیرے دربار میں، سب کا ہی اک حق ہےدل کی دھڑکن میں، تیرا ہی اک شور ہےتجھ سے ہی زندگی، تجھ سے ہی نور ہے
مستی میں ڈوبے، تیرے نام کا ورد کریںہم تو تیرے عشق میں، خود کو ہی گرد کریںمستی میں ڈوبے، تیرے نام کا ورد کریںہم تو تیرے عشق میں، خود کو ہی گرد کریںیا رب، یا رب، تیرا ہی دیدار ہومیری بستی میں، بس تیرا ہی پیار ہو
مست ہوا، میں مست ہواتیرے عشق میں، میں پست ہوامست ہوا، میں مست ہواتیرے عشق میں، میں پست ہواسب کچھ کھو کر، تجھ کو پایاتیرے در پر، سر کو جھکایا
خاموشیاں بولتی ہیں، تیرا ہی نام لے کرجی اٹھا ہوں میں، تیرے ہی جام لے کراب نہ کوئی جستجو، نہ کوئی اب طلب ہےبس تیرے وصال کی، مٹتی نہیں یہ شب ہےتیرے ہی نام پر، یہ زندگی ختم ہوتیرے ہی ذکر میں، ہر ایک غم ختم ہویا رب، یا رب، یا رب۔
مستی کا ورد
در کا گدا
Preview