مستی عشق کی سانسیں
استاد فقیر بخش
قوالی
About
یہ قوالی ایک جذباتی روحانی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گونج، طبلہ کی پیچیدہ تال اور اجتماعی تالیوں کا استعمال کیا گیا ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام کو روایتی انداز میں پیش کیا گیا ہے جو سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تو ہی میری پناہ ہےتیری یادوں کی حدت، میری واحد گواہ ہےدل میں جلتی ہے جو شمع، وہ تیرا ہی نور ہےمیری ہستی کا ہر ذرہ، تیری ہی حضوری میں چور ہے
میں تو مٹی کا پتلا، تو خالقِ کائنات ہےتجھ سے شروع، تجھ پہ ختم، یہ میری حیات ہےمیں بھٹکتا رہا عمر بھر، تیری تلاش میںاب تیرے عشق کا رنگ، میری ہر بات میں
مستی میں ڈوبا ہے اب، میرا ہر ایک سانستیرے جلووں کی طلب میں، کھو گیا ہے احساساے میرے محبوبِ حقیقی، تجھ پہ ہوں قربانتو ہی میرا ایمان ہے، تو ہی میری پہچان
کوئی پوچھے تو کہہ دوں گا، میرا کوئی نہیں یہاںتیرے قدموں کی دھول ہی، میرا سارا جہاںنہ کوئی فکرِ دنیا، نہ کوئی خوفِ زوالبس تیری محبت کا، مجھ پہ ہے یہ حال
یا رب، یا رب، تیری دہلیز پہ سر جھکا ہےیا رب، یا رب، تیرا نور ہر سو چھپا ہےمیں کہاں تھا؟ میں کیا ہوں؟ سب تو ہی تو ہےمیری روح کی پیاس، تو ہی تو ہے
سب کچھ تجھ پہ لٹا دوں، یہ دنیا کیا چیز ہےتیرے وصال کی تڑپ، میری اصل تمیز ہےوجد میں لرزتا ہے، یہ تن بدن میراتیرے عشق میں فنا ہونا، ہی مقصد ہے میراسبحان اللہ، سبحان اللہ، تیری شانِ بے نیازسبحان اللہ، سبحان اللہ، تو ہی میرا راز
خاموشی میں بھی اب، تیرا ہی ذکر جاری ہےمیری بندگی کی انتہا، اب تیری ہی سواری ہےتو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی میرا قرارتیرے عشق میں ڈوب کر، پایا ہے میں نے پیارپایا ہے میں نے پیار، بس تیرا ہی پیار
مستی عشق کی سانسیں
استاد فقیر بخش
Preview