ذاتِ اول آخر
سایہِ رحمت
حمد
About
ایک پرسکون اور روحانی حمد جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلہ کی روایتی تھاپ کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ یہ ووکل سینٹرک پروڈکشن سامعین کو ایک گہری عبادت اور مراقبہ کی کیفیت میں لے جاتی ہے۔
Lyrics
تیری ہی ذات ہے اول، تیری ہی ذات ہے آخرتو ہی ظاہر ہے ہر شے میں، تو ہی ہے سب سے باطن
ذرا سی خاک کو تو نے، دیا ہے حسنِ گویائییہ میری سانس، یہ ہستی، تیری ہی دین ہے بھائیمیں بھٹکا پھر رہا تھا، تو نے رستہ دکھایا ہےاندھیری رات میں مجھ کو، دیا نورِ ہدایت کا
اے میرے مالک، اے میرے مولاتیرے کرم کا کوئی نہیں ہے ٹھکانامیں ہوں گنہگار، تو ہے رحیم و کریمتیری رحمت کا ہے سایہ، ہم پر سدا
یہ سورج، چاند، تارے، یہ زمیں اور یہ آسماںتیری قدرت کی نشانی، تیری ہی ہے یہ دکاںپتوں کی جنبش میں، ہواؤں کے شور میںتیرا ہی نام گونجے، ہر ایک دور میں
اے میرے مالک، اے میرے مولاتیرے کرم کا کوئی نہیں ہے ٹھکانامیں ہوں گنہگار، تو ہے رحیم و کریمتیری رحمت کا ہے سایہ، ہم پر سدا
بس تیری چاہت، بس تیری بندگیمیری دعا ہے، یہی زندگیتو ہی ہے کافی، تو ہی ہے سب کچھتجھ پر ہی توکل، اے ربِ ذوالجلال
ذاتِ اول آخر
سایہِ رحمت
Preview