وصل کی تڑپ
شمسِ وجد
Qawwali-Fusion
About
ایک جدید قوالی فیوژن ٹریک جو روایتی ہارمونیم اور طبلہ کی تھاپ کو الیکٹرانک بیٹس اور گہری باس لائنز کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام کی شدت اور جدید ساؤنڈ ڈیزائن کا حسین امتزاج پیش کیا گیا ہے۔
Lyrics
تیرے نام سے شروع ہوئی میری ہر سانس کی کہانیتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخر، تو ہی ہے لاثانیتیرے عشق میں ڈوب کر ہی پائی ہے میں نے اپنی پہچانمیرے اندر کا سارا شور، تیرے در پہ ہوا قربان
میں تو مسافر تھا بھٹکتا ہوا، اندھیروں کی گلیوں میںخواب بکھرے پڑے تھے میرے، وقت کی بے رحم کلیوں میںپھر اک کرن سی چمکی تیرے ذکر کی ٹھنڈی چھاؤں میںمیں کھو گیا خود کو پا کر، تیری محبت کی پناہ میں
محبوبِ حقیقی، تجھ سے ہے میری ہستی کا یہ مانتیرے قدموں کی دھول میں چھپا ہے میرا سارا جہانتیری طلب میں جلنا، تیری یاد میں پگھلنا ہے عبادتتیرے وصل کی تڑپ ہی، میری روح کی واحد سعادت
ہائے رے وہ نور، جو دل میں اتراہائے رے وہ وجد، جو رگوں میں بکھرااے دوست، اے مالک، اے میرے رہبرتیرے بنا سب ویران، تیرے بنا سب بے ثمر
نہ کوئی ذات، نہ کوئی رنگ، نہ کوئی دیوار باقی ہےمحبت کی اس آگ میں، بس تیرا ہی پیار باقی ہےمیں مٹ گیا تو کیا ہوا، تجھ میں ہی تو زندہ ہوںتیرے ہی دم سے اب تو، ہر لمحہ میں تابندہ ہوں
محبوبِ حقیقی، تجھ سے ہے میری ہستی کا یہ مانتیرے قدموں کی دھول میں چھپا ہے میرا سارا جہانتیری طلب میں جلنا، تیری یاد میں پگھلنا ہے عبادتتیرے وصل کی تڑپ ہی، میری روح کی واحد سعادت
تیرے نام کا نشہ، تیرے نام کی مستیمٹ گئی مجھ سے میری یہ خاکی ہستیتیرے نام کا نشہ، تیرے نام کی مستیمٹ گئی مجھ سے میری یہ خاکی ہستی
خاموشی میں بھی تیرا ہی نغمہ گونجتا ہےہر ذرہ تیرے عشق کی گواہی دیتا ہےبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری روح کا سکون، بس تو ہی تو ہے
وصل کی تڑپ
شمسِ وجد
Preview