Skip to content
Duration4:07

وصل کی تڑپ

شمسِ وجد

Qawwali-Fusion

About

ایک جدید قوالی فیوژن ٹریک جو روایتی ہارمونیم اور طبلہ کی تھاپ کو الیکٹرانک بیٹس اور گہری باس لائنز کے ساتھ جوڑتا ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام کی شدت اور جدید ساؤنڈ ڈیزائن کا حسین امتزاج پیش کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے نام سے شروع ہوئی میری ہر سانس کی کہانیتو ہی ہے اول، تو ہی ہے آخر، تو ہی ہے لاثانیتیرے عشق میں ڈوب کر ہی پائی ہے میں نے اپنی پہچانمیرے اندر کا سارا شور، تیرے در پہ ہوا قربان

verse

میں تو مسافر تھا بھٹکتا ہوا، اندھیروں کی گلیوں میںخواب بکھرے پڑے تھے میرے، وقت کی بے رحم کلیوں میںپھر اک کرن سی چمکی تیرے ذکر کی ٹھنڈی چھاؤں میںمیں کھو گیا خود کو پا کر، تیری محبت کی پناہ میں

chorus

محبوبِ حقیقی، تجھ سے ہے میری ہستی کا یہ مانتیرے قدموں کی دھول میں چھپا ہے میرا سارا جہانتیری طلب میں جلنا، تیری یاد میں پگھلنا ہے عبادتتیرے وصل کی تڑپ ہی، میری روح کی واحد سعادت

vocal improvisation

ہائے رے وہ نور، جو دل میں اتراہائے رے وہ وجد، جو رگوں میں بکھرااے دوست، اے مالک، اے میرے رہبرتیرے بنا سب ویران، تیرے بنا سب بے ثمر

verse

نہ کوئی ذات، نہ کوئی رنگ، نہ کوئی دیوار باقی ہےمحبت کی اس آگ میں، بس تیرا ہی پیار باقی ہےمیں مٹ گیا تو کیا ہوا، تجھ میں ہی تو زندہ ہوںتیرے ہی دم سے اب تو، ہر لمحہ میں تابندہ ہوں

chorus

محبوبِ حقیقی، تجھ سے ہے میری ہستی کا یہ مانتیرے قدموں کی دھول میں چھپا ہے میرا سارا جہانتیری طلب میں جلنا، تیری یاد میں پگھلنا ہے عبادتتیرے وصل کی تڑپ ہی، میری روح کی واحد سعادت

drop

تیرے نام کا نشہ، تیرے نام کی مستیمٹ گئی مجھ سے میری یہ خاکی ہستیتیرے نام کا نشہ، تیرے نام کی مستیمٹ گئی مجھ سے میری یہ خاکی ہستی

outro

خاموشی میں بھی تیرا ہی نغمہ گونجتا ہےہر ذرہ تیرے عشق کی گواہی دیتا ہےبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری روح کا سکون، بس تو ہی تو ہے

وصل کی تڑپ

شمسِ وجد

Preview

وصل کی تڑپ by شمسِ وجد | EchoLoRA: Generate a Song with AI