تصورِ مدینہ
سید زاہد رضا
نعت
About
یہ نعت ایک پرسکون اور روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی روایتی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ گلوکار کی آواز میں موجود پیچیدہ اور جذباتی اتار چڑھاؤ اسے ایک خالص اور عقیدت مندانہ موسیقی کا شاہکار بناتے ہیں۔
Lyrics
میری آنکھوں کو بخشی ہے ضیا ان کے تصور نےدلِ بے تاب کو دی ہے دعا ان کے تصور نے
مدینے کی فضاؤں میں، سکونِ قلب پایا ہےمری ہر ایک مشکل کو، کرم نے ہی مٹایا ہےوہ رحمت بن کے آئے ہیں، زمانے کے اندھیروں میںخدا کا نور دیکھا ہے، نبی کے رخ کے پھیروں میں
مرے آقا، مرے مولا، مری ہر سانس میں تم ہومری جینے کی خواہش، میری ہر آس میں تم ہوتیری چوکھٹ پہ سر رکھ کر، زمانے کو بھلا دوں میںتیری الفت کے سجدوں میں، خودی اپنی گنوا دوں میں
وہ جن کے نام سے روشن، زمین و آسماں ہوئےجو آئے تو جہاں کے سب، غموں کے کارواں ہوئےمیں خاکِ راہِ طیبہ کا، ہمیشہ سے ہی طالب ہوںمیں ان کے در کا ہوں خادم، میں ان کا ہی تو عاشق ہوں
مرے آقا، مرے مولا، مری ہر سانس میں تم ہومری جینے کی خواہش، میری ہر آس میں تم ہوتیری چوکھٹ پہ سر رکھ کر، زمانے کو بھلا دوں میںتیری الفت کے سجدوں میں، خودی اپنی گنوا دوں میں
کبھی جو یاد آتی ہے، تو آنکھیں بھیگ جاتی ہیںوہ یادیں دل کے آنگن میں، بہاریں لے کے آتی ہیںدرود ان پر، سلام ان پر، جو باعثِ تخلیقِ عالم ہیںوہی تو چارہ گر میرے، وہی تو راحتِ غم ہیں
مرے آقا، مرے مولا، مری ہر سانس میں تم ہومری جینے کی خواہش، میری ہر آس میں تم ہوتیری چوکھٹ پہ سر رکھ کر، زمانے کو بھلا دوں میںتیری الفت کے سجدوں میں، خودی اپنی گنوا دوں میں
لبوں پر نام ہے ان کا، دلوں میں ان کی الفت ہےیہی تو زندگی میری، یہی تو میری دولت ہےیہی میری تو دولت ہے...یہی میری تو دولت ہے...
تصورِ مدینہ
سید زاہد رضا
Preview