Skip to content
دیوانگیِ حضور
Duration4:32

دیوانگیِ حضور

وجدِ صوفی

Qawwali

About

ایک جذباتی اور روحانی قوالی جس میں ہارمونیم کی گونج، طبلے کی پیچیدہ تال، اور پرجوش کال اینڈ ریسپانس ووکلز کا امتزاج ہے۔ یہ ٹریک روایتی تالیوں کی تھاپ اور کریسینڈو کے ساتھ ایک وجدانی کیفیت پیدا کرتا ہے۔

Lyrics

intro

مے کدے کے در پہ اب تو سر جھکا کے بیٹھ گئےعشق کی دہلیز پر ہم دل لگا کے بیٹھ گئےکوئی پوچھے تو سہی اب حالِ دلِ دردمندہم تو بس اک نام ہی سینے میں سجا کے بیٹھ گئے

verse

تیرے کوچے میں جو آئے تو کہیں کے نہ رہےاپنے ہی سایوں سے ہم آنکھیں چرا کے بیٹھ گئےکون جانے کہ یہ بیراگی کی کیسی آگ ہےسب کچھ لٹا کے ہم جو گھر اپنا بنا کے بیٹھ گئے

chorus

یہ کیسا نشہ ہے جو رگ رگ میں اترتا جائےتیری یادوں کے چراغ اب دل میں جلتے جائیںہم تو دیوانے ہیں تیرے، تجھ پہ ہی مر جائیںتیری الفت کے رنگوں میں خود کو ہی رنگ جائیں

verse

کبھی سوچا نہ تھا ہم نے کہ ایسا بھی ہوگاتیرے جلووں کے لیے ہم خود کو مٹا کے بیٹھ گئےوہ جو کہتے تھے کہ دنیا میں کچھ بھی نہیں ہےہم تو سارا جہاں تیرے قدموں میں لٹا کے بیٹھ گئے

improvisation

ہائے رے وہ نظر، ہائے رے وہ اداہم تو ہو گئے تیرے، اب ہمیں کیا پتابس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری سانسوں میں، میری دھڑکنوں میںبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہے

crescendo

جل اٹھے ہیں اب تو سب پردے مٹانے کے لیےہم تو نکلے تھے تیری راہوں کو پانے کے لیےتیری چوکھٹ پہ جو سر رکھا تو پھر نہ اٹھےہم تو مر مٹے ہیں تجھ کو ہی اپنانے کے لیے

chorus

یہ کیسا نشہ ہے جو رگ رگ میں اترتا جائےتیری یادوں کے چراغ اب دل میں جلتے جائیںہم تو دیوانے ہیں تیرے، تجھ پہ ہی مر جائیںتیری الفت کے رنگوں میں خود کو ہی رنگ جائیں

verse

کوئی سمجھے نہ سمجھے ہمیں کیا غرض ہےہم تو تیری مستی میں دنیا بھلا کے بیٹھ گئےاب تو بس اک ہی دھن ہے، اک ہی پکار ہےتیرے قرب کے لیے ہم سب کو گنوا کے بیٹھ گئے

outro

تیری ہی جستجو میں اب عمر کٹ رہی ہےتیرے ہی انتظار میں اب راتیں ڈھل رہی ہیںہم تو مٹ گئے، ہم تو مٹ گئےتیرے ہی عشق میں، تیرے ہی رنگ میںبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےہم تو بس تیرے ہو گئے، تیرے ہی ہو گئے

دیوانگیِ حضور

وجدِ صوفی

Preview

دیوانگیِ حضور by وجدِ صوفی | EchoLoRA: Generate a Song with AI