دیوانگیِ حضور
وجدِ صوفی
Qawwali
About
ایک جذباتی اور روحانی قوالی جس میں ہارمونیم کی گونج، طبلے کی پیچیدہ تال، اور پرجوش کال اینڈ ریسپانس ووکلز کا امتزاج ہے۔ یہ ٹریک روایتی تالیوں کی تھاپ اور کریسینڈو کے ساتھ ایک وجدانی کیفیت پیدا کرتا ہے۔
Lyrics
مے کدے کے در پہ اب تو سر جھکا کے بیٹھ گئےعشق کی دہلیز پر ہم دل لگا کے بیٹھ گئےکوئی پوچھے تو سہی اب حالِ دلِ دردمندہم تو بس اک نام ہی سینے میں سجا کے بیٹھ گئے
تیرے کوچے میں جو آئے تو کہیں کے نہ رہےاپنے ہی سایوں سے ہم آنکھیں چرا کے بیٹھ گئےکون جانے کہ یہ بیراگی کی کیسی آگ ہےسب کچھ لٹا کے ہم جو گھر اپنا بنا کے بیٹھ گئے
یہ کیسا نشہ ہے جو رگ رگ میں اترتا جائےتیری یادوں کے چراغ اب دل میں جلتے جائیںہم تو دیوانے ہیں تیرے، تجھ پہ ہی مر جائیںتیری الفت کے رنگوں میں خود کو ہی رنگ جائیں
کبھی سوچا نہ تھا ہم نے کہ ایسا بھی ہوگاتیرے جلووں کے لیے ہم خود کو مٹا کے بیٹھ گئےوہ جو کہتے تھے کہ دنیا میں کچھ بھی نہیں ہےہم تو سارا جہاں تیرے قدموں میں لٹا کے بیٹھ گئے
ہائے رے وہ نظر، ہائے رے وہ اداہم تو ہو گئے تیرے، اب ہمیں کیا پتابس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری سانسوں میں، میری دھڑکنوں میںبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہے
جل اٹھے ہیں اب تو سب پردے مٹانے کے لیےہم تو نکلے تھے تیری راہوں کو پانے کے لیےتیری چوکھٹ پہ جو سر رکھا تو پھر نہ اٹھےہم تو مر مٹے ہیں تجھ کو ہی اپنانے کے لیے
یہ کیسا نشہ ہے جو رگ رگ میں اترتا جائےتیری یادوں کے چراغ اب دل میں جلتے جائیںہم تو دیوانے ہیں تیرے، تجھ پہ ہی مر جائیںتیری الفت کے رنگوں میں خود کو ہی رنگ جائیں
کوئی سمجھے نہ سمجھے ہمیں کیا غرض ہےہم تو تیری مستی میں دنیا بھلا کے بیٹھ گئےاب تو بس اک ہی دھن ہے، اک ہی پکار ہےتیرے قرب کے لیے ہم سب کو گنوا کے بیٹھ گئے
تیری ہی جستجو میں اب عمر کٹ رہی ہےتیرے ہی انتظار میں اب راتیں ڈھل رہی ہیںہم تو مٹ گئے، ہم تو مٹ گئےتیرے ہی عشق میں، تیرے ہی رنگ میںبس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےہم تو بس تیرے ہو گئے، تیرے ہی ہو گئے
دیوانگیِ حضور
وجدِ صوفی
Preview