Skip to content
Duration4:43

سجدۂِ بندگی

صوفی شاہد نوری

قوالی

About

ایک روایتی قوالی جو ہارمونیم کے گہرے ڈرون اور طبلہ کی تیز تھاپ پر مبنی ہے۔ اس میں صوفیانہ کلام کے ساتھ ساتھ تالیوں کی گونج اور کال اینڈ ریسپانس کا انداز شامل ہے جو سامعین کو روحانی وجد کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےمیری ہر سانس میں بس تیرا ہی ذکر بسا ہےمیں بھٹکتا رہا دنیا کی اندھیری گلیوں میںاب تیرے نام کا نور ہی میرا راستہ ہے

verse

میں تو اک قطرۂ ناچیز، وہ ہے بحرِ بے کراںکیسے پاؤں میں اسے، جس کی حد ہے نہ نشاںمیری ہستی تو فقط ایک غبارِ راہ ہےاس کی رحمت کے سوا سب کچھ ہی اک گناہ ہےمیں نے مانگا ہے وہی، جو وہ عنایت کرےدل کی ویرانی میں اب تیری ہی چاہت کرے

chorus

آقا! میری بگڑی ہوئی تقدیر بنا دےاپنی الفت کے سمندر میں مجھے آج ڈبو دےمیں تو تیرا ہی رہا، اب نہ کر مجھ سے دوریمیری روح کی پیاس کو، بس ایک نظر میں بجھا دے

verse

کبھی سوچا نہیں تھا کہ یہ رنگ بھی لائے گا عشقمیری تنہائیوں کو محفلِ نور بنائے گا عشقمیں نے چھوڑا ہے جہاں، اب تیرے در پہ آ کےیہ جو دل ہے میرا، اب تیرے ہی نام پہ دھڑکےکوئی پوچھے جو مجھ سے، کیا پایا ہے تو نےکہہ دوں گا اس کو، کہ سب کچھ لٹا کر پایا ہے

rhythmic-break

ہو... حق! حق! حق!میری روح کی پیاس کو مٹا دےہو... حق! حق! حق!اپنی الفت کے رنگ میں رنگا دےہو... حق! حق! حق!تیرے در پہ سر جھکا ہےہو... حق! حق! حق!میرا سب کچھ تجھ پہ فدا ہے

crescendo

مٹا دے مٹا دے، خودی کو مٹا دےتیرے عشق کی آگ میں، مجھ کو جلا دےنہ میں ہوں، نہ تو ہے، بس ایک نورِ مطلقمیری ہر سانس کو اب تو اپنا بنا لےتیری دید کی حسرت، تیری یاد کا سایہاس دلِ زار کو اب تو اپنا بنا لے

verse

یہ سفر ختم ہوا، اب تو ہے سامنے میرےمیں نے پائے ہیں وہ گل، جو کھلے تھے تیرے در پہاب نہ کوئی سوال، نہ کوئی اب تقاضا ہےتیرے قدموں میں گرنا ہی، میرا اوڑھنا بچھونا ہےمیں مٹا، میں بکھرا، پھر تیرے رنگ میں سمٹایہی سچ ہے، یہی حاصل، یہی میرا ٹھکانہ ہے

outro

بس تو ہی تو ہے، بس تو ہی تو ہےمیری رگ رگ میں تیرا ہی لہو ہےیا رب! اب تو اسے قبول کر لےمیرا سب کچھ تجھ پہ فدا ہےمیرا سب کچھ تجھ پہ فدا ہےحق... حق... حق...

سجدۂِ بندگی

صوفی شاہد نوری

Preview

سجدۂِ بندگی by صوفی شاہد نوری | EchoLoRA: Generate a Song with AI