حمدِ ربِ جلیل
نورِ ربانی
حمد
About
یہ حمد ایک پرسکون اور روحانی تجربہ ہے جس میں ہارمونیئم کی دلکش دھن اور طبلہ کی روایتی تھاپ کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ اس گیت کی پروڈکشن کو مکمل طور پر ووکل سینٹرک رکھا گیا ہے تاکہ اللہ کی حمد و ثنا کے جذبات کو سادگی اور عقیدت کے ساتھ پیش کیا جا سکے۔
Lyrics
تیرے نام سے شروع ہو ہر ایک سانس کا سفرتیری ہی ذات ہے جس سے روشن ہے یہ سحر
ذرات سے لے کر کہکشاں تک تیرا ہی جلال ہےتیرے ہی دم سے قائم یہ زمین اور یہ نڈھال ہےمیں تو اک قطرہ ہوں تیرے بحرِ بے کراں میںمیری ہستی تیری ہی عطا کا اک حسین خیال ہے
اے میرے رب، اے میرے خالق، تیری شان نرالی ہےتیرے در کے سوا ہر چوکھٹ، مجھے تو خالی لگی ہےتیری رحمت کی بارش میں، روح میری دھل جاتی ہےتیرے حضور ہی بس میری عاجزی سنور جاتی ہے
میں بھٹکتا رہا دنیا کی رنگینیوں کے ہجوم میںتو نے ہی تھاما ہاتھ میرا، ہر مشکل کے ہجوم میںمیری خاموشیوں میں بھی تو ہی تو بستا ہےتیرا ہی ذکر ہے میری ہر دھڑکن کے مفہوم میں
اے میرے رب، اے میرے خالق، تیری شان نرالی ہےتیرے در کے سوا ہر چوکھٹ، مجھے تو خالی لگی ہےتیری رحمت کی بارش میں، روح میری دھل جاتی ہےتیرے حضور ہی بس میری عاجزی سنور جاتی ہے
تیری حمد ہی میرا سرمایہ ہے، تیری حمد ہی میرا سکونتیرے ہی سامنے جھکتا ہے دل، اے مالکِ کون و مکونبس تیری ہی رضا چاہیے، بس تیرا ہی ساتھ چاہیےتو ہی آغاز ہے میرا، تو ہی انجامِ سکون
حمدِ ربِ جلیل
نورِ ربانی
Preview