Skip to content
وجدِ لاہوتی
Duration5:20

وجدِ لاہوتی

مستِ سمندر

Qawwali

About

یہ قوالی ایک جذباتی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گہری گونج اور طبلہ کی تیز تالوں کے ساتھ روحانی وجد کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس میں روایتی کال اینڈ رسپانس اور تالیوں کی تھاپ شامل ہے جو سامعین کو ایک صوفیانہ تجربے میں غرق کر دیتی ہے۔

Lyrics

intro

مستی میں ڈوبے ہوئے، ہوش سب کھو گئےدل کے دریچے کھلے، ہم تو بس وہ ہو گئےتیری طلب کا سفر، اب کوئی انجام نہیںتجھ سے جڑے اس جہاں میں، کوئی بھی نام نہیں

verse

میں تو اک بوند ہوں، تو ہی سمندر ہے میراتیرے ہی دم سے روشن، یہ مقدر ہے میراچھوڑ کر دنیا کی باتیں، تیری چوکھٹ پہ آئےاپنی ہستی کو مٹا کر، تیرا ہی رنگ پائےکون کہتا ہے کہ تجھ سے، میرا کوئی رشتہ نہیںتیرے بن سانس لینا، اب تو گوارا نہیں

chorus

یا مولیٰ، یا مولیٰ، تیری ہی چاہت ہےتیرے نام میں ہی، میری عبادت ہےمجھ کو تو اپنا بنا، اب تو نہ کر دوریتیری دید ہی تو، میری سب سے بڑی ضرورت ہے

improvisation

کبھی ڈھونڈا نہیں باہر، تجھے اپنے اندر پایاتیرے عشق نے مجھ کو، خود سے ہی ملایامیں خاک تھا، تو نے بنایا مجھے آفتابتیری نظروں نے بدلے، میرے سبھی خوابہو، ہو، ہو، تیرا ہی تو ہے سارا فسانہتیرے بغیر تو جینا، ہے بس اک بہانا

verse

راستہ تیرا ہے، منزل بھی تو ہی ہےمیری ہر دھڑکن میں، تیری ہی خوشبو ہےمیں نے مانا کہ میں، گنہگار ہوں بہتپر تیری رحمت کا، نہیں کوئی حد و بہتتو نے چن لیا مجھے، جب میں تنہا تھاتیرے عشق کا رنگ، مجھ پہ ہی چھایا تھا

crescendo

عشق کی آگ میں، سب کچھ جل گیادل کا ہر زنگ، دھیرے سے دھل گیااب تو بس تو ہی ہے، میری ہر سانس میںتیری ہی صورت ہے، میری ہر بات میںمٹا دے مجھے، اپنی الفت میں یوںکہ تیرے سوا، کچھ نہ دیکھے یہ کیوںوجد میں آ کر، اب تو پکاریں تجھےآ کے مٹا دے، سبھی دوریاں اب ہمیں

chorus

یا مولیٰ، یا مولیٰ، تیری ہی چاہت ہےتیرے نام میں ہی، میری عبادت ہےمجھ کو تو اپنا بنا، اب تو نہ کر دوریتیری دید ہی تو، میری سب سے بڑی ضرورت ہے

outro

تیرا ہی نام، تیرا ہی کاممیری روح کا، اب تو ہی آرامبس تیری ہی پیاس، بس تیری ہی آستو ہی تو ہے، میرے پاسیا مولیٰ، یا مولیٰ...یا مولیٰ، یا مولیٰ...

وجدِ لاہوتی

مستِ سمندر

Preview

وجدِ لاہوتی by مستِ سمندر | EchoLoRA: Generate a Song with AI