وجدِ لاہوتی
مستِ سمندر
Qawwali
About
یہ قوالی ایک جذباتی سفر ہے جس میں ہارمونیم کی گہری گونج اور طبلہ کی تیز تالوں کے ساتھ روحانی وجد کا اظہار کیا گیا ہے۔ اس میں روایتی کال اینڈ رسپانس اور تالیوں کی تھاپ شامل ہے جو سامعین کو ایک صوفیانہ تجربے میں غرق کر دیتی ہے۔
Lyrics
مستی میں ڈوبے ہوئے، ہوش سب کھو گئےدل کے دریچے کھلے، ہم تو بس وہ ہو گئےتیری طلب کا سفر، اب کوئی انجام نہیںتجھ سے جڑے اس جہاں میں، کوئی بھی نام نہیں
میں تو اک بوند ہوں، تو ہی سمندر ہے میراتیرے ہی دم سے روشن، یہ مقدر ہے میراچھوڑ کر دنیا کی باتیں، تیری چوکھٹ پہ آئےاپنی ہستی کو مٹا کر، تیرا ہی رنگ پائےکون کہتا ہے کہ تجھ سے، میرا کوئی رشتہ نہیںتیرے بن سانس لینا، اب تو گوارا نہیں
یا مولیٰ، یا مولیٰ، تیری ہی چاہت ہےتیرے نام میں ہی، میری عبادت ہےمجھ کو تو اپنا بنا، اب تو نہ کر دوریتیری دید ہی تو، میری سب سے بڑی ضرورت ہے
کبھی ڈھونڈا نہیں باہر، تجھے اپنے اندر پایاتیرے عشق نے مجھ کو، خود سے ہی ملایامیں خاک تھا، تو نے بنایا مجھے آفتابتیری نظروں نے بدلے، میرے سبھی خوابہو، ہو، ہو، تیرا ہی تو ہے سارا فسانہتیرے بغیر تو جینا، ہے بس اک بہانا
راستہ تیرا ہے، منزل بھی تو ہی ہےمیری ہر دھڑکن میں، تیری ہی خوشبو ہےمیں نے مانا کہ میں، گنہگار ہوں بہتپر تیری رحمت کا، نہیں کوئی حد و بہتتو نے چن لیا مجھے، جب میں تنہا تھاتیرے عشق کا رنگ، مجھ پہ ہی چھایا تھا
عشق کی آگ میں، سب کچھ جل گیادل کا ہر زنگ، دھیرے سے دھل گیااب تو بس تو ہی ہے، میری ہر سانس میںتیری ہی صورت ہے، میری ہر بات میںمٹا دے مجھے، اپنی الفت میں یوںکہ تیرے سوا، کچھ نہ دیکھے یہ کیوںوجد میں آ کر، اب تو پکاریں تجھےآ کے مٹا دے، سبھی دوریاں اب ہمیں
یا مولیٰ، یا مولیٰ، تیری ہی چاہت ہےتیرے نام میں ہی، میری عبادت ہےمجھ کو تو اپنا بنا، اب تو نہ کر دوریتیری دید ہی تو، میری سب سے بڑی ضرورت ہے
تیرا ہی نام، تیرا ہی کاممیری روح کا، اب تو ہی آرامبس تیری ہی پیاس، بس تیری ہی آستو ہی تو ہے، میرے پاسیا مولیٰ، یا مولیٰ...یا مولیٰ، یا مولیٰ...
وجدِ لاہوتی
مستِ سمندر
Preview