شہرِ سنگدل
زوارِ حیات
پاکستانی ہپ ہاپ
About
ایک گہرا اور سماجی شعور رکھنے والا ہپ ہاپ ٹریک جس میں روایتی ستار کی دھنوں کو جدید ٹریپ بیٹس اور بھاری 808 بیس لائنز کے ساتھ ملایا گیا ہے۔ یہ گانا کراچی کی گلیوں کی حقیقت اور محنت کش طبقے کی جدوجہد کو ایک طاقتور اور جارحانہ انداز میں بیان کرتا ہے۔
Lyrics
سڑکوں کی دھول میں لپٹا ہوا میرا خواب ہےیہ شہرِ بے حس، یہاں ہر کوئی لاجواب ہےلفظوں کی آگ، اور سینے میں چھپی ہوئی باتتاریکیوں کو چیرتی، میری یہ سیاہ رات
گلیاں یہ تنگ، جیسے دم گھٹتا ہو میرا یہاںاونچی عمارتیں، پر سائے ہیں گہرے یہاںمزدور کی پیشانی پہ پسینہ ہے یا ہے کوئی نشان؟سفید پوشوں کی محفل میں، بھوکا ہے پورا جہاںمیں نے سیکھا ہے لڑنا، گر کے سنبھلنا یہاںمیری جیب خالی، پر حوصلہ ہے آسمان جتنا یہاںیہاں سچ بولنے کی قیمت، سر کٹوا کے چکانی ہےپر میری خاموشی بھی، اب ایک کہانی سنانی ہے
یہ میری بستی، یہ میرا لہو، یہ میری پہچان ہےبدلتے وقت کی دھڑکن، یہ میرا ہی بیان ہےہم گرتے بھی ہیں، ہم اٹھتے بھی ہیں، ہم چلتے بھی ہیںیہ شہرِ سنگدل، اب ہماری ہی زبان میں پلتے بھی ہیں
کتابوں کے ورقوں میں، سچائی دبائی گئی ہےہمارے خوابوں کی لاش، سڑکوں پہ بچھائی گئی ہےوہ جو تخت نشیں ہیں، انہیں خبر کیا ہو بھوک کی؟انہوں نے تو صرف تجارت کی ہے، انسانیت کی نوک کیمیری آواز گونجے گی، ان دیواروں کے پار تکمیں تب تک نہ رکوں گا، جب تک نہ پہنچوں دار تکیہ قلم نہیں، یہ میرا خنجر ہے، کاغذ کے سینے پہمیں لکھتا ہوں وہ زخم، جو چھپے ہیں میرے جینے پہ
اندھیرا کتنا بھی گہرا ہو، صبح تو آتی ہےمیری ہمت ہی تو ہے، جو مجھے جینا سکھاتی ہےنہ کوئی ڈر، نہ کوئی خوف، اب راستہ صاف ہےمیری محنت کی کمائی، میرے رب کے پاس ہے
یہ میری بستی، یہ میرا لہو، یہ میری پہچان ہےبدلتے وقت کی دھڑکن، یہ میرا ہی بیان ہےہم گرتے بھی ہیں، ہم اٹھتے بھی ہیں، ہم چلتے بھی ہیںیہ شہرِ سنگدل، اب ہماری ہی زبان میں پلتے بھی ہیں
نئی نسل کی آنکھوں میں، اب آگ جاگ اٹھی ہےغلامی کی زنجیریں، اب ہاتھ سے بھاگ اٹھی ہےہم وہ نہیں جو جھک جائیں گے، وقت کے اشاروں پہہم وہ ہیں جو طوفان لائیں گے، ان کے میناروں پہیہ مٹی گواہ ہے، میری جدوجہد کی ہر ایک لہر کیمیں زنجیر نہیں ہوں، میں ہوں آواز ہر اس قہر کیجو دبائی گئی، جو مٹائی گئی، پر کبھی نہ ختم ہوئیمیری یہ ہمت، اب ہر ایک دل کا عزم ہوئی
یہ شہر میرا ہے، یہ لوگ میرے ہیںمیری آواز میں، ان کی دعائیں ہیںلڑنا ہے، بڑھنا ہے، جیتنا ہےبس یہی تو زندگی ہےیہی تو زندگی ہےمیری پہچان، میری زبان۔
شہرِ سنگدل
زوارِ حیات
Preview