Skip to content
Duration4:15

ضربِ تازہ

سحر و سنگ

پاکستانی راک

About

ایک طاقتور پاکستانی راک ٹریک جو روایتی طبلہ کی تھاپ کو ہائی گین الیکٹرک گٹار کے ساتھ ملا کر ایک منفرد صوتی تجربہ تخلیق کرتا ہے۔ اس گانے میں سماجی شعور اور تبدیلی کی خواہش کو مشرقی راگوں اور مغربی راک اسٹرکچر کے امتزاج کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔

Lyrics

intro
verse

سڑکوں پہ پھیلا ہے دھواں، خاموش ہے ہر اک مکاںشہر کی ان گلیوں میں، ہم نے کھویا ہے اپنا جہاںدیکھو ذرا ان آنکھوں میں، جلتے ہوئے یہ خواب ہیںکون سنے گا اب صدا، ہم تو بس اک سوال ہیں

pre-chorus

دیواروں پر لکھے ہوئے، کچھ نام مٹتے جا رہےہم خود ہی اپنی راہ میں، خود ہی رکاوٹ لا رہے

chorus

یہ کیسا دور آیا ہے، کہ سچ بھی اب تو جھوٹ ہےہمارے ہاتھوں سے ہی، ہمارا کل چھوٹ ہےاٹھو کہ وقت کی نبض پر، اب ضربِ تازہ چاہیےہمیں تو اس اندھیرے میں، اک روشنی کا دروازہ چاہیے

tabla-solo
verse

پرانے قصے یاد ہیں، جب دل میں کوئی آس تھیلبوں پہ مسکراہٹ تھی، اور سانسوں میں مٹھاس تھیاب تو فقط اک شور ہے، سنائی کچھ نہیں دیتایہاں تو کوئی بھی شخص، حقِ سچائی نہیں دیتا

pre-chorus

دیواروں پر لکھے ہوئے، کچھ نام مٹتے جا رہےہم خود ہی اپنی راہ میں، خود ہی رکاوٹ لا رہے

chorus

یہ کیسا دور آیا ہے، کہ سچ بھی اب تو جھوٹ ہےہمارے ہاتھوں سے ہی، ہمارا کل چھوٹ ہےاٹھو کہ وقت کی نبض پر، اب ضربِ تازہ چاہیےہمیں تو اس اندھیرے میں، اک روشنی کا دروازہ چاہیے

guitar-solo
bridge

زنجیریں توڑ کر نکلیں، ہم اپنی ہی تلاش میںجلتے ہوئے یہ چراغ ہیں، ہم اپنی ہی تپش میںاب رکنا اب تھمنا نہیں، یہ عزمِ نو کا سفر ہےجو کل تھا وہ گزر گیا، یہ آج اپنا ہی گھر ہے

chorus

یہ کیسا دور آیا ہے، کہ سچ بھی اب تو جھوٹ ہےہمارے ہاتھوں سے ہی، ہمارا کل چھوٹ ہےاٹھو کہ وقت کی نبض پر، اب ضربِ تازہ چاہیےہمیں تو اس اندھیرے میں، اک روشنی کا دروازہ چاہیے

outro

دروازہ چاہیے...اک نیا راستہ چاہیے...بس سچ چاہیے...

ضربِ تازہ

سحر و سنگ

Preview