ضربِ تازہ
سحر و سنگ
پاکستانی راک
About
ایک طاقتور پاکستانی راک ٹریک جو روایتی طبلہ کی تھاپ کو ہائی گین الیکٹرک گٹار کے ساتھ ملا کر ایک منفرد صوتی تجربہ تخلیق کرتا ہے۔ اس گانے میں سماجی شعور اور تبدیلی کی خواہش کو مشرقی راگوں اور مغربی راک اسٹرکچر کے امتزاج کے ذریعے پیش کیا گیا ہے۔
Lyrics
سڑکوں پہ پھیلا ہے دھواں، خاموش ہے ہر اک مکاںشہر کی ان گلیوں میں، ہم نے کھویا ہے اپنا جہاںدیکھو ذرا ان آنکھوں میں، جلتے ہوئے یہ خواب ہیںکون سنے گا اب صدا، ہم تو بس اک سوال ہیں
دیواروں پر لکھے ہوئے، کچھ نام مٹتے جا رہےہم خود ہی اپنی راہ میں، خود ہی رکاوٹ لا رہے
یہ کیسا دور آیا ہے، کہ سچ بھی اب تو جھوٹ ہےہمارے ہاتھوں سے ہی، ہمارا کل چھوٹ ہےاٹھو کہ وقت کی نبض پر، اب ضربِ تازہ چاہیےہمیں تو اس اندھیرے میں، اک روشنی کا دروازہ چاہیے
پرانے قصے یاد ہیں، جب دل میں کوئی آس تھیلبوں پہ مسکراہٹ تھی، اور سانسوں میں مٹھاس تھیاب تو فقط اک شور ہے، سنائی کچھ نہیں دیتایہاں تو کوئی بھی شخص، حقِ سچائی نہیں دیتا
دیواروں پر لکھے ہوئے، کچھ نام مٹتے جا رہےہم خود ہی اپنی راہ میں، خود ہی رکاوٹ لا رہے
یہ کیسا دور آیا ہے، کہ سچ بھی اب تو جھوٹ ہےہمارے ہاتھوں سے ہی، ہمارا کل چھوٹ ہےاٹھو کہ وقت کی نبض پر، اب ضربِ تازہ چاہیےہمیں تو اس اندھیرے میں، اک روشنی کا دروازہ چاہیے
زنجیریں توڑ کر نکلیں، ہم اپنی ہی تلاش میںجلتے ہوئے یہ چراغ ہیں، ہم اپنی ہی تپش میںاب رکنا اب تھمنا نہیں، یہ عزمِ نو کا سفر ہےجو کل تھا وہ گزر گیا، یہ آج اپنا ہی گھر ہے
یہ کیسا دور آیا ہے، کہ سچ بھی اب تو جھوٹ ہےہمارے ہاتھوں سے ہی، ہمارا کل چھوٹ ہےاٹھو کہ وقت کی نبض پر، اب ضربِ تازہ چاہیےہمیں تو اس اندھیرے میں، اک روشنی کا دروازہ چاہیے
دروازہ چاہیے...اک نیا راستہ چاہیے...بس سچ چاہیے...
ضربِ تازہ
سحر و سنگ
Preview