انجامِ محبت
سایہِ نبض
کوک اسٹوڈیو فیوژن
About
یہ گانا روایتی رباب اور طبلہ کی تھاپ کو جدید الیکٹرانک سنتھسائزر کے ساتھ جوڑتا ہے، جس میں ایک جذباتی اور گہری صوفیانہ آواز شامل ہے۔ اس میں آرکسٹرل سٹرنگز کا استعمال کیا گیا ہے جو گانے کو ایک سنیماٹک اور پروقار انداز فراہم کرتا ہے۔
Lyrics
تیرے در کی ہواؤں میں بسی ہے میری روحراستے گم ہوئے، پر منزل کا پتا ہے تو
میرے اندر کا سناٹا، میری اپنی ہی آواز ہےخاموشی میں بھی چھپا، تیرا ہی ایک راز ہےصحراؤں کی تپتی دھوپ میں، ڈھونڈوں تیرا سایہمیں نے خود کو کھو کے، تجھ کو ہی پایا
آنکھوں کی نمی میں، تیرا عکس اترتا ہےدل کا ہر ایک ذرہ، تیری یاد میں بکھرتا ہے
تو ہی آغاز، تو ہی انجامِ محبت ہےمیری نبضوں میں دوڑتی، وہی ایک چاہت ہےتیرے قرب کی طلب، اب میری عبادت ہےتو ہی آغاز، تو ہی انجامِ محبت ہے
کبھی وقت کی رفتار، کبھی پل کا ٹھہراؤمیں تیری جستجو میں، خود کو کہاں لے آؤں؟مٹی کے اس پیالے میں، امرت کا ذائقہ ہےتجھ سے جڑنے کا ہر لمحہ، اک نیا معجزہ ہے
میں تو اک مسافر، راستے انجان ہیںتیری ایک نظر کے، ہم تو قربان ہیںنہ کوئی دوری، نہ کوئی اب فاصلہ ہےتجھ میں ہی میرا، سارا سلسلہ ہے
تو ہی آغاز، تو ہی انجامِ محبت ہےمیری نبضوں میں دوڑتی، وہی ایک چاہت ہےتیرے قرب کی طلب، اب میری عبادت ہےتو ہی آغاز، تو ہی انجامِ محبت ہے
دل کی بستی میں، بس تیرا ہی بسیرا ہےاندھیروں کے بعد، اب تیرا ہی سویرا ہےتو ہی ہے... تو ہی ہے...میری روح کا ٹھکانہ، تو ہی ہے...
انجامِ محبت
سایہِ نبض
Preview