Skip to content
Duration3:05

انجامِ محبت

سایہِ نبض

کوک اسٹوڈیو فیوژن

About

یہ گانا روایتی رباب اور طبلہ کی تھاپ کو جدید الیکٹرانک سنتھسائزر کے ساتھ جوڑتا ہے، جس میں ایک جذباتی اور گہری صوفیانہ آواز شامل ہے۔ اس میں آرکسٹرل سٹرنگز کا استعمال کیا گیا ہے جو گانے کو ایک سنیماٹک اور پروقار انداز فراہم کرتا ہے۔

Lyrics

intro

تیرے در کی ہواؤں میں بسی ہے میری روحراستے گم ہوئے، پر منزل کا پتا ہے تو

verse 1

میرے اندر کا سناٹا، میری اپنی ہی آواز ہےخاموشی میں بھی چھپا، تیرا ہی ایک راز ہےصحراؤں کی تپتی دھوپ میں، ڈھونڈوں تیرا سایہمیں نے خود کو کھو کے، تجھ کو ہی پایا

pre-chorus

آنکھوں کی نمی میں، تیرا عکس اترتا ہےدل کا ہر ایک ذرہ، تیری یاد میں بکھرتا ہے

chorus

تو ہی آغاز، تو ہی انجامِ محبت ہےمیری نبضوں میں دوڑتی، وہی ایک چاہت ہےتیرے قرب کی طلب، اب میری عبادت ہےتو ہی آغاز، تو ہی انجامِ محبت ہے

verse 2

کبھی وقت کی رفتار، کبھی پل کا ٹھہراؤمیں تیری جستجو میں، خود کو کہاں لے آؤں؟مٹی کے اس پیالے میں، امرت کا ذائقہ ہےتجھ سے جڑنے کا ہر لمحہ، اک نیا معجزہ ہے

instrumental-solo
bridge

میں تو اک مسافر، راستے انجان ہیںتیری ایک نظر کے، ہم تو قربان ہیںنہ کوئی دوری، نہ کوئی اب فاصلہ ہےتجھ میں ہی میرا، سارا سلسلہ ہے

chorus

تو ہی آغاز، تو ہی انجامِ محبت ہےمیری نبضوں میں دوڑتی، وہی ایک چاہت ہےتیرے قرب کی طلب، اب میری عبادت ہےتو ہی آغاز، تو ہی انجامِ محبت ہے

outro

دل کی بستی میں، بس تیرا ہی بسیرا ہےاندھیروں کے بعد، اب تیرا ہی سویرا ہےتو ہی ہے... تو ہی ہے...میری روح کا ٹھکانہ، تو ہی ہے...

انجامِ محبت

سایہِ نبض

Preview