تقدیر کا دامن
شہریارِ سخن
غزل
About
ایک روایتی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی نپی تلی تال کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ یہ گیت انسانی جذبات کی گہرائی اور تنہائی کے احساس کو ایک سادہ مگر اثر انگیز صوتی انداز میں پیش کرتا ہے۔
Lyrics
تیرے آنے کی آہٹیں ہیں مگر، تو کہیں بھی نہیں ہے نظر میںخالی کمرے کی دیواروں پر، اب بھی ہے تیرا عکسِ ہنر میںہم نے مانا کہ فاصلے ہیں بہت، دل کی بستی اجڑ سی گئی ہےپھر بھی یادوں کے کچھ دیپ روشن، بجھ رہے ہیں کسی انجمن میں
تیرے بن زندگی کا سفر ہے، جیسے صحرا میں پیاسا مسافرکون جانے کہ کیا لکھ دیا ہے، وقت نے میری تقدیر کے دامن میں
وہ جو باتیں تھیں پھولوں کی خوشبو، اب وہ کانٹے بنے ہیں خیالوں میںتیرے جانے کا دکھ اس طرح ہے، جیسے بارش کسی سوکھے بن میںتجھ کو پانے کی حسرت میں ہم نے، خود کو کھویا ہے اس بے دلی سےاب تو تنہائی بھی ڈھونڈتی ہے، تیرا چہرہ کسی بھی بدن میں
تیرے بن زندگی کا سفر ہے، جیسے صحرا میں پیاسا مسافرکون جانے کہ کیا لکھ دیا ہے، وقت نے میری تقدیر کے دامن میں
خاموشی بولتی ہے بہت، اب تو آ جا میرے خوابوں کی حد تکورنہ ہم گم ہو جائیں گے اب، اس جہاں کی کسی بھی تھکن میں
تقدیر کا دامن
شہریارِ سخن
Preview