Skip to content
تقدیر کا دامن
Duration3:58

تقدیر کا دامن

شہریارِ سخن

غزل

About

ایک روایتی غزل جس میں ہارمونیم کی دلکش دھن اور طبلے کی نپی تلی تال کو مرکزی حیثیت دی گئی ہے۔ یہ گیت انسانی جذبات کی گہرائی اور تنہائی کے احساس کو ایک سادہ مگر اثر انگیز صوتی انداز میں پیش کرتا ہے۔

Lyrics

intro
verse

تیرے آنے کی آہٹیں ہیں مگر، تو کہیں بھی نہیں ہے نظر میںخالی کمرے کی دیواروں پر، اب بھی ہے تیرا عکسِ ہنر میںہم نے مانا کہ فاصلے ہیں بہت، دل کی بستی اجڑ سی گئی ہےپھر بھی یادوں کے کچھ دیپ روشن، بجھ رہے ہیں کسی انجمن میں

refrain

تیرے بن زندگی کا سفر ہے، جیسے صحرا میں پیاسا مسافرکون جانے کہ کیا لکھ دیا ہے، وقت نے میری تقدیر کے دامن میں

instrumental-break
verse

وہ جو باتیں تھیں پھولوں کی خوشبو، اب وہ کانٹے بنے ہیں خیالوں میںتیرے جانے کا دکھ اس طرح ہے، جیسے بارش کسی سوکھے بن میںتجھ کو پانے کی حسرت میں ہم نے، خود کو کھویا ہے اس بے دلی سےاب تو تنہائی بھی ڈھونڈتی ہے، تیرا چہرہ کسی بھی بدن میں

refrain

تیرے بن زندگی کا سفر ہے، جیسے صحرا میں پیاسا مسافرکون جانے کہ کیا لکھ دیا ہے، وقت نے میری تقدیر کے دامن میں

outro

خاموشی بولتی ہے بہت، اب تو آ جا میرے خوابوں کی حد تکورنہ ہم گم ہو جائیں گے اب، اس جہاں کی کسی بھی تھکن میں

تقدیر کا دامن

شہریارِ سخن

Preview