Skip to content
Duration2:55

کیفِ بے کراں

سید عمیر رضوی

نعت

About

ایک روایتی نعت جس میں ہارمونیم کی پرسوز دھن اور طبلہ کی تال کا حسین امتزاج ہے۔ اس کلام میں صوفیانہ رنگ اور آواز کی پیچیدہ ادائیگی (melismatic phrasing) پر خاص توجہ دی گئی ہے جو روحانی سکون فراہم کرتی ہے۔

Lyrics

intro

ذکرِ نبی سے مہکتا ہے دل کا گلستاںان کی محبت میں گم ہے اب میری ہر اک داستاں

verse

جن کے قدم کی دھول سے روشن ہوا جہاںوہ رحمتِ عالم، وہ سرورِ کون و مکاںتڑپتی ہے روح میری ان کے در کی دید کوکاش مل جائے مجھے بھی وہ کیفِ بے کراں

refrain

یا مصطفیٰ، یا مجتبیٰ، تیری ہی چاہت ہے مجھےتیری ہی چوکھٹ پہ ملتی ہے اب راحت مجھےتیری ہی الفت میں کٹ جائے یہ زندگی میریتیری ہی نسبت سے حاصل ہے یہ عظمت مجھے

verse

اندھیری راتوں میں بھی وہ نورِ سحر بن کے آئےبھٹکے ہوئے مسافروں کو سیدھا راستہ دکھائےان کے خلقِ عظیم کی کیا بات ہے اے دلوہ دشمنوں کو بھی سینے سے اپنے لگائے

refrain

یا مصطفیٰ، یا مجتبیٰ، تیری ہی چاہت ہے مجھےتیری ہی چوکھٹ پہ ملتی ہے اب راحت مجھےتیری ہی الفت میں کٹ جائے یہ زندگی میریتیری ہی نسبت سے حاصل ہے یہ عظمت مجھے

outro

درود پڑھتا رہوں، یہی میری آرزو ہےان کی یادوں میں بسنا ہی میری جستجو ہےسلام ہو ان پر، سلام ہو ان پرمیرا ہر سانس اب ان کی ہی خوشبو ہے

کیفِ بے کراں

سید عمیر رضوی

Preview