کیفِ بے کراں
سید عمیر رضوی
نعت
About
ایک روایتی نعت جس میں ہارمونیم کی پرسوز دھن اور طبلہ کی تال کا حسین امتزاج ہے۔ اس کلام میں صوفیانہ رنگ اور آواز کی پیچیدہ ادائیگی (melismatic phrasing) پر خاص توجہ دی گئی ہے جو روحانی سکون فراہم کرتی ہے۔
Lyrics
ذکرِ نبی سے مہکتا ہے دل کا گلستاںان کی محبت میں گم ہے اب میری ہر اک داستاں
جن کے قدم کی دھول سے روشن ہوا جہاںوہ رحمتِ عالم، وہ سرورِ کون و مکاںتڑپتی ہے روح میری ان کے در کی دید کوکاش مل جائے مجھے بھی وہ کیفِ بے کراں
یا مصطفیٰ، یا مجتبیٰ، تیری ہی چاہت ہے مجھےتیری ہی چوکھٹ پہ ملتی ہے اب راحت مجھےتیری ہی الفت میں کٹ جائے یہ زندگی میریتیری ہی نسبت سے حاصل ہے یہ عظمت مجھے
اندھیری راتوں میں بھی وہ نورِ سحر بن کے آئےبھٹکے ہوئے مسافروں کو سیدھا راستہ دکھائےان کے خلقِ عظیم کی کیا بات ہے اے دلوہ دشمنوں کو بھی سینے سے اپنے لگائے
یا مصطفیٰ، یا مجتبیٰ، تیری ہی چاہت ہے مجھےتیری ہی چوکھٹ پہ ملتی ہے اب راحت مجھےتیری ہی الفت میں کٹ جائے یہ زندگی میریتیری ہی نسبت سے حاصل ہے یہ عظمت مجھے
درود پڑھتا رہوں، یہی میری آرزو ہےان کی یادوں میں بسنا ہی میری جستجو ہےسلام ہو ان پر، سلام ہو ان پرمیرا ہر سانس اب ان کی ہی خوشبو ہے
کیفِ بے کراں
سید عمیر رضوی
Preview