مٹ گئی ہستی
نفسِ معشوق
صوفیانہ قوالی
About
یہ کلام ایک گہرا صوفیانہ تجربہ ہے جس میں ہارمونیم کی ڈرون آواز اور طبلے کے پیچیدہ تال کا امتزاج ہے۔ اس میں جذباتی اور پرجوش صوفیانہ انداز میں حق کی تلاش اور فنا فی اللہ کے تصور کو بیان کیا گیا ہے۔
Lyrics
میرے اندر کی خاموشی میں تیرا نام گونجےمیری روح کے ہر ذرے میں تیرا ہی کام گونجےمیں کیا ہوں؟ بس ایک مٹھی بھر خاک کا تودہتیری تجلی سے ہی تو میرا وجود دمکتا ہے
میں بھٹکتا رہا بازاروں کی بھیڑ میں عمر بھرتلاش تھی جس کی، وہ تو میرے ہی اندر چھپا تھاکبھی مسجد کے میناروں میں ڈھونڈا تجھےکبھی مے خانے کی ویرانیوں میں پکارا تجھےپر تو تو میرے سانسوں کی ڈور میں بسا ہےتو ہی میری پیاس ہے، تو ہی میرا کنارہ ہے
ہائے رے، ہائے رے، تو ہی تو ہےجانِ جہاں، تو ہی تو ہےسجدہ کروں یا خود کو مٹا دوںتیرے عشق میں، اب کیا چھپا دوں
تو ہی اول، تو ہی آخر، تو ہی باطن، تو ہی ظاہرتیرے عشق کی آگ میں جل کر، میں تو خاک ہوامٹ گیا میں، تو ہی باقی بچاتیری محبت کا یہ رنگ، اب مجھ پر چڑھامیں گم ہوا، میں گم ہوا
دنیا کی یہ رنگینیاں، سب دھوکا ہیں اے دوستتیری دید کی خاطر، میں نے سب کچھ وار دیانہ رہی کوئی منزل، نہ رہا کوئی راستہتیرے قدموں میں، میں نے خود کو گزار دیاساری انا ٹوٹ گئی، اب میں آزاد ہوںتیرے عشق کی قید میں، میں کتنا شاد ہوں
میں تو نہیں، صرف تو ہے!ہر طرف تو ہے، ہر طرف تو ہے!میری ہستی کا ہر نشان مٹ گیاتیرے نور میں، میرا وجود سمٹ گیاحق! حق! حق!تیرے سوا کچھ بھی نہیں!
خاموشی میں تیری پکار، میرے دل کا قراراب تو آ جا، اب تو آ جامٹ گیا میں، تو ہی باقی بچاصرف تو بچا، صرف تو بچا...
مٹ گئی ہستی
نفسِ معشوق
Preview