رنگِ فنا
استاد شمسِ تاباں
قوالی
About
یہ قوالی ایک گہری روحانی کیفیت میں ڈوبی ہوئی ہے جس میں ہارمونیم کی مسلسل گونج اور طبلے کی تھاپ کے ساتھ جذباتی آواز کا امتزاج ہے۔ کلام کے دوران تالیوں کی لے اور سوال و جواب کے انداز کو روایتی صوفیانہ انداز میں پیش کیا گیا ہے جو سامعین کو وجد کی کیفیت میں لے جاتا ہے۔
Lyrics
تیرے در کا گدا ہوں، تجھ سے ہی التجا ہےمیری روح کی پیاس، بس تیری ہی عطا ہےتیرے ذکر میں کھویا، میں خود سے بیگانہیہ عشقِ حقیقی، بس تیرا ہی راستہ ہے
میں تو خاکِ رہ گزر ہوں، تو ہے شمسِ تاباںمیری ہر سانس میں بستا، تو ہی ہے جانِ جاناںکبھی خوابوں میں آ کر، کبھی دل میں سما کرتو نے بدل دی میری، تقدیرِ پریشاںمیں بھٹکتا رہا تھا، اندھیروں کی زد میںمگر تیری نسبت نے، بخشا ہے اک جہاں
مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ دے، اے میرے مولیٰمیری ہر ایک دھڑکن میں، تیرا ہی نام ہو گونجامیں تیری یاد میں، یوں خود کو مٹا دوںکہ جیسے قطرہ دریا میں، ہو جائے فنا ہو
ہو، میرا سب کچھ تو ہی ہےہو، میرا سب کچھ تو ہی ہےتیرے بن، میں کچھ بھی نہیںتیرے بن، میں کچھ بھی نہیں
آگ لگی ہے سینے میں، تیری جدائی کیپیاس بڑھی ہے دل میں، تیرے دیدار کیمیں دیوانہ، میں مستانہ، تیری راہ کا راہیتیرے عشق میں ڈوب کر، ملی ہے زندگیسب کچھ تجھ پہ وار دیا، اب تو ہی میرا حاصلتیرے نام پہ قربان، میری ہر ایک خوشی
مجھ کو اپنے رنگ میں تو رنگ دے، اے میرے مولیٰمیری ہر ایک دھڑکن میں، تیرا ہی نام ہو گونجامیں تیری یاد میں، یوں خود کو مٹا دوںکہ جیسے قطرہ دریا میں، ہو جائے فنا ہو
بس تو ہی، صرف تو ہیمیرے اندر، میرے باہرمیرا مالک، میرا آقاتیرے سوا، کوئی نہیںتیرے سوا، کوئی نہیںبس تو ہی... بس تو ہی...
رنگِ فنا
استاد شمسِ تاباں
Preview